حیدرآباد۔/7مئی، ( پی ٹی آئی؍سیاست نیوز) سیما آندھرا کے تقریباً 80فیصد رائے دہندوں نے انتہائی چلچلاتی دھوپ اور شدید گرمی کی لہر کی پرواہ کئے بغیر آج لوک سبھا کے 25اور اسمبلی کے 175حلقوں میں اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ اس دوران تشدد کے چند واقعات پیش آئے بالخصوص کڑپہ کے چند علاقوں سے تلگودیشم۔ بی جے پی اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے واقعات کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر بھنور لعل نے کہا کہ سیما آندھرا کے 13اضلاع میں مجموعی طور پر تقریباً 80 فیصد رائے دہی ہوئی جس کے منجملہ گنٹور میں سب سے زیادہ 83فیصد اور وشاکھاپٹنم میں سب سے کم یعنی 73 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ کا قطعی مجموعی فیصد 80 سے زائد ہوسکتا ہے۔ 2009ء کے انتخابات میں سیما آندھرا میں 76فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی تھی۔ سیما آندھرا میں آج رائے دہی کے دوران چند مقامات پر ماؤ نواز تشدد کے علاوہ تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے کارکنوں میں تصادم کے واقعات بھی پیش آئے۔ آندھرا۔ اڈیسہ سرحد پر واقع پالکا گیری علاقہ میں ماؤ نوازوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو نذرِ آتش کردیا جس کے نتیجہ میں حکام کو ایک مرکز رائے دہی پر دوبارہ پولنگ کا حکم دینا پڑا۔
ضلع کڑپہ میں تصادم کے واقعات میں وائی ایس آر کانگریس اور ٹی ڈی پی کے متعدد کارکن زخمی ہوگئے۔ اضلاع گنٹور و کڑپہ میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے ہوائی فائرنگ کی۔ رائے دہی کے دوران تقریباً 8کروڑ روپئے کی غیر محسوب رقم ضبط کرلی گئی جس کے ساتھ ہی غیر منقسم آندھرا پردیش میں انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے بعد تاحال ضبط شدہ رقم 152 کروڑ روپئے تک پہنچ گئی ہے۔ تلگودیشم پارٹی کے صدر این چندرا بابو نائیڈو جو ایک دہائی سے اقتدار سے محروم رہے ہیں ان کیلئے آج کے انتخابات ’ کرو یا مرو کی لڑائی‘ سمجھے جارہے ہیں۔ مسٹر نائیڈو نے بی جے پی سے انتخابی مفاہمت کی ہے۔ ان کے اصل حریف وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے سربراہ وائی ایس جگن موہن ریڈی ہیں۔