اسمبلی کی 103 اور لوک سبھا کی 16 نشستوں پر کامیابی
وائی ایس آر کانگریس کو 66 نشستوں پر جیت : کانگریس صفر
حیدرآباد /16 مئی ( سیاست نیوز ) سیما آندھرا میں ہوئے انتخابات میں تلگودیشم نے شاندار مظاہرہ کیا ہے اور اس نے بی جے پی کے ساتھ 103 اسمبلی نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے اور یہاں اسے اقتدار حاصل ہورہا ہے ۔ پارٹی کو تین نشستوں پر سبقت حاصل ہونے کی اطلاع بھی ہے ۔ سیما آندھرا میں اقتدار کی دعویدار سمجھی جانے والی وائی ایس آر کانگریس نے 66 اسمبلی حلقوں سے کامیابی حاصل کی ہے اور مزید ایک پر اسے سبقت حاصل ہے ۔ اس کے علاوہ تلگودیشم نے سیما آندھرا میں لوک سبھا کی 16 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ ایک نشست پر سبقت کی اطلاع بھی ہے ۔ وائی ایس آر کانگریس نے لوک سبھا کی 8 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ سیما آندھرا میں کانگریس کا مظاہرہ انتہائی ناقص رہا ہے اور اسے لوک سبھا اور اسمبلی کی ایک بھی نشست پر کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔ یہاں اس کے تمام امیدواروں کو شکست ہوگئی ہے جن میں کئی اہم قائدین ‘ مرکزی اور ریاستی وزرا بھی شامل ہیں ۔ انتخابی مہم کے دوران بھی کانگریس کو عوام کی برہمی اور ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ سیما آندھرا کے عوام آندھرا پردیش کی تقسیم کے ذریعہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے فیصلے کے خلاف برہم ہیں۔
حلقہ لوک سبھا وشاکھا پٹنم سے وائی ایس آر کانگریس کی اعزازی صدر اور پارٹی صدر جگن موہن ریڈی کی والدہ وجئے لکشمی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔انہیں بی جے پی کے ریاستی صدر کے ہری بابو کے خلاف 60,000 ووٹوں سے شکست ہوگئی ۔ اس کے علاوہ راجم پیٹ حلقہ میں ڈی پورندیشوری کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ سابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کی پارٹی جئے سمیکھیا آندھرا بھی اپنے وجود کا احساس دلانے میں ناکام رہی ہے اور اسے ایک بھی نشست پر کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔ تلگودیشم کی اس شاندار کامیابی سے وہاں چندرا بابو نائیڈو کی زیر قیادت حکومت تشکیل دی جانی یقینی ہوگئی ہے ۔ سابق وزیر فینانس اے رام نارائن ریڈی کی آتماکور اسمبلی حلقہ میں ضمانت ضبط ہوگئی جبکہ تنالی میں سابق اسپیکر این منوہر کو شکست ہوگئی ۔ سابق وزیر بوتسہ ستیہ نارائناکو وجیا نگرم میں اپنے حلقہ اسمبلی چیپورو پلے سے اور ان کی شریک حیات کو وجیہ نگرم لوک سبھا حلقہ سے شکست ہوگئی ۔