انتخابی مفاہمت کے بعد چندرا بابو کی صورتحال تبدیل، خانگی سروے پر وائی ایس آر سی پی قائدین کا جائزہ
حیدرآباد۔/10مئی، ( سیاست نیوز) سیما آندھرا ریاست میں وائی ایس جگن موہن ریڈی کی جانب سے تشکیل حکومت کی دعویداری اقلیتوں کی تائید کی بنیاد پر ہے۔ جگن موہن ریڈی کو یقین ہے کہ سیما آندھرا میں اقلیتوں نے تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد کے سبب وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے حق میں ووٹ دیا لہذا وہ اسمبلی اور لوک سبھا کی زائد نشستوں پر کامیابی کا یقین رکھتے ہیں۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ رائے دہی کے اختتام کے بعد جگن موہن ریڈی نے قریبی ساتھیوں کے ساتھ نتائج کے امکانات کا جائزہ لیا۔پارٹی نے اس سلسلہ میں بعض خانگی سروے کرنے والے اداروں کی خدمات بھی حاصل کی تھی۔ تمام سروے رپورٹس اور پارٹی قائدین کے فیڈ بیاک کی بنیاد پر جگن موہن ریڈی اس نتیجہ پر پہنچے کہ سیما آندھرا میں اقلیتوں کی تائید انہیں اقتدار تک پہنچا دے گی۔ اگرچہ چندرا بابو نائیڈو اور ان کے ساتھی پُرامید ہیں کہ ان کی پارٹی سیما آندھرا میں 1999ء کی تاریخ دہرائے گی جس وقت نائیڈو کو دوسری مرتبہ اقتدار حاصل ہوا تھا۔ لیکن ان دعوؤں پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو یقین نہیں۔ جگن موہن ریڈی نے بتایا جاتا ہے کہ اپنے ساتھیوں سے کہا کہ انہیں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، پارٹی اسمبلی اور پارلیمنٹ کی نشستوں پر تاریخی کامیابی حاصل کرے گی۔1999ء کی طرح کامیابی کو دہرانے کیلئے چندرا بابو نائیڈو نے بی جے پی سے مفاہمت کرتے ہوئے ملک بھر میں جاری ’’ مودی لہر ‘‘ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے تاہم بتایا جاتا ہے کہ انتخابی مفاہمت سے فائدہ کے بجائے نقصان کے امکانات زیادہ ہیں۔ تلگودیشم سیما آندھرا کی 175اسمبلی اور 25لوک سبھا حلقوں میں 162اسمبلی اور 21لوک سبھا حلقوں سے مقابلہ کررہی ہے جبکہ باقی نشستوں پر بی جے پی کی تائید کی گئی۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے تجزیہ کے مطابق ساحلی آندھرا اور رائلسیما میں تلگودیشم۔ بی جے پی اتحاد سے قبل اقلیتوں کا جھکاؤ چندرا بابو نائیڈو کی طرف تھا تاہم انتخابی مفاہمت کے بعد صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔ 1999ء میں تلگودیشم کو واجپائی کی مقبولیت سے فائدہ ہوا تھا لیکن اس مرتبہ مودی کے سبب تلگودیشم کو نقصان ہوسکتا ہے کیونکہ گجرات فسادات کی یاد ابھی تازہ ہے اور مسلمان اس مسئلہ پر مودی کو معاف کرنے تیار نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ساحلی آندھرا کے 40 اسمبلی حلقوں میں اقلیتی رائے دہندے فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں جبکہ 15حلقوں میں اقلیتی ووٹ اپنا اثر رکھتے ہیں۔ رائلسیما میں 25اسمبلی حلقوں میں کسی بھی امیدوار کی کامیابی کا انحصار اقلیتوں کی تائید پر منحصر ہوگا۔39اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں رائے دہندوں کو پارلیمنٹ کیلئے تلگودیشم اور اسمبلی کیلئے بی جے پی یا پھر اس کے برعکس امیدواروں کا انتخاب کرنا ہوگا۔ تاہم اس سے رائے دہندوں میں الجھن دیکھی گئی اور ان کا جھکاؤ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی طرف منتقل ہوگیا۔ اقلیتی رائے دہندے پارلیمنٹ کے لئے تلگودیشم اور اسمبلی کیلئے بی جے پی کو منتخب کرنے کے نظریہ کو ماننے تیار نہیں تھے۔ تلگودیشم قائدین نے اقلیتوں کو منانے کیلئے اس بات کی کوشش کی کہ وہ بی جے پی نہ سہی صرف تلگودیشم امیدوار کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں چاہے وہ لوک سبھا ہو یا اسمبلی جبکہ دوسرا ووٹ وہ اپنی پسند کی کسی پارٹی کو دے سکتے ہیں۔ اس کوشش کا بتایا جاتا ہے کہ کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آیا۔ تلگودیشم کے 16باغی امیدوار بھی پارٹی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تلگودیشم پارٹی نے انتخابات سے عین قبل شمولیت اختیار کرنے والے 27کانگریسی قائدین کو ٹکٹ دیا ہے جس سے مقامی تلگودیشم کیڈر میں ناراضگی تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ نارض سرگرمیوں کا نتائج پر کس حد تک اثر پڑے گا۔ جگن موہن ریڈی اسمبلی کی 100سے زائد اور لوک سبھا کی 20نشستوں پر کامیابی کے ذریعہ قومی سطح پر اہم رول ادا کرنے کے بارے میں مطمئن ہیں۔