مرکز میں تائید کے لئے تمام راستے کھلے، سربراہ وائی ایس آر سی پی جگن موہن ریڈی کا ادعا
حیدرآباد /7 مئی (سیاست نیوز) سربراہ وائی ایس آر کانگریس جگن موہن ریڈی نے کہا کہ سیما۔ آندھرا میں وائی ایس آر سی پی کے حق میں یکطرفہ رائے دہی ہوئی ہے۔ سیما۔ آندھرا میں رائے دہی کا عمل مکمل ہونے کے بعد پلی ویدلہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سریکا کلم سے کپم تک وائی ایس آر کانگریس کے حق میں ووٹ ڈالے گئے۔ تمام جماعتیں اور قائدین ایک طرف تھے، جب کہ وہ تنہا تھے، تاہم بھگوان کی کرپا اور عوام کے آشیرواد سے ہماری پارٹی تشکیل حکومت کے لئے واضح اکثریت حاصل کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ صدر تلگودیشم چندر بابو نائیڈو نے بی جے پی سے اتحاد کرکے نریندر مودی کو کامیاب بنانے عوام سے اپیل کی، جب کہ انھوں نے دہلی حکومت کے سامنے سر جھکانے کی بجائے گردن مروڑکر کام لینے والوں کو ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔ وزارت عظمی کے لئے نریندر مودی کی تائید کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے تنہا انتخابات میں حصہ لیا ہے، مابعد انتخابات کس کی تائید کرنا ہے اس پر ہم غور کریں گے۔ ہمارے لئے سیما۔ آندھرا کے مفادات عزیز ہیں، لہذا جو ہمارا ساتھ دے گا ہم اس کا ساتھ دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ بڑی بدنیتی سے تلنگانہ کا بل پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا، جس کی تائید تلگودیشم اور بی جے پی نے بھی کی ہے، اس طرح کانگریس، تلگودیشم اور بی جے ی نے ریاست کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں ایک مکتوب پڑھ کر سنایا، جس کا بل میں کوئی تذکرہ نہیں ہے، جب کہ ترقی کی کلید سمجھے جانے والے حیدرآباد کو سیما۔ آندھرا سے علحدہ کردیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ سیما۔ آندھرا کے دارالحکومت کے لئے جاری کئے جانے والے فنڈس کا اعلان نہیں کیا گیا، جب کہ خصوصی موقف کا اعلان صرف زبانی کیا گیا، لیکن اس کی ترجیحات کو واضح نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ سیما۔ آندھرا کی ترقی اور نوجوانوں کو روزگار کے علاوہ دیگر بھی مسائل ہیں، لہذا انھیں حل کرنے اور سیما۔ آندھرا کی تعمیر نو میں تعاون کا وعدہ کرنے والوں کا ہم ساتھ دیں گے۔ چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے ان پر لگائے گئے بدعنوانیوں کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تھوڑا انتظار کریں، انتخابی نتائج خود اس کا جواب دیں گے۔