سیما۔ آندھرا عوام کو ہراساں کرنے کے خلاف حکومت تلنگانہ کو انتباہ

سروے کی بنیاد پر مقامی قرار دینے کی مذمت: سابق صدر پی سی سی بی ستیہ نارائنا
حیدرآباد /14 اگست (سیاست نیوز) سابق صدر پردیش کانگریس بی ستیہ نارائنا نے سروے کے نام پر سیما۔ آندھرا والوں کو پریشان کرنے کے خلاف تلنگانہ حکومت کو انتباہ دیا۔ آج اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہر حکومت کو سروے کرانے کا اختیار ہے، مگر سروے دستور اور قانون کے مطابق ہونا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ سروے میں نام اور گاؤں کا نام دریافت کرنا عام بات ہے، مگر سیما۔ آندھرا والوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ فارم میں کوئی غیر قانونی بات نہیں ہے، تاہم کچھ غلط حرکت کی گئی تو آندھرا پردیش کانگریس کمیٹی اس کے خلاف احتجاجی مہم شروع کرے گی۔ انھوں نے تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لئے 1956ء کو بنیاد بنانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مفاد کے لئے طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ نہ کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ تقسیم ریاست کے بل میں جو کچھ لکھا گیا ہے، اس پر عمل آوری کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ نئے دارالحکومت کے نام پر چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو وقت برباد کر رہے ہیں، جب کہ فی الوقت حیدرآباد آندھرا پردیش کے لئے عارضی ہیڈ کوارٹر ہے اور دس سال تک حیدرآباد میں رہ کر آندھرا پردیش کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے، پھر وجے واڑہ کو آندھرا پردیش کا عارضی دارالحکومت بنانے کی کیا ضرورت ہے؟۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ تلگودیشم حکومت اپنے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں پر عمل کرے، جب کہ دو ماہ کا وقت گزرنے کے بعد بھی کسانوں اور خواتین کے قرضہ جات معاف نہیں کئے گئے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اس کے لئے سنجیدہ نہیں ہے، کسان مسائل سے دو چار ہیں اور چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو وعدوں پر عمل کرنے کی بجائے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے میں مصروف ہیں، جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔