فرگوسن۔ 25 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی ریاست مسوری میں سیاہ فام مائیکل براون کے قتل میں سفید فام پولیس اہلکار پر جرم ثابت نہ ہوسکا جس کے بعد فرگوسن شہر میں ہنگا مے پھوٹ پڑے۔گرینڈ جیوری کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرین نے ایک درجن عمارتوں کو آگ لگا دی۔ اِن میں سے بیشتر تباہ ہوجانے کی اطلاعات ہیں ۔ مشتعل مظاہرین نے ٹائر جلائے اوردکانوں کے شیشے توڑ دئیے۔ایک گاڑی کو بھی آگ لگادی گئی۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے مرچو ں کا اسپرے کیا، آنسو گیس کا استعمال کیا۔گرینڈ جیوری کا فیصلہ سناتے ہوئے سینٹ لوئی کے پراسکیوٹر رابرٹ مک کولوچ نے کہا کہ پولیس اہلکار پر مقدمہ قائم کرنے کیلئے ٹھوس وجوہات موجود نہیں۔ جیوری کا فیصلہ سننے کے بعد مائیکل برائون کے اہل خانہ نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انتہائی افسوس ہے کہ ہمارے عزیز کا قاتل کوئی مقدمے کا سامنا نہیں کرے گا۔دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔پولیس ملازم ولسن پر 18 سالہ سیاہ فام برائون کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔سینٹ لوئیس کاؤنٹی کے پراسکیوٹنگ اٹارنی باب مک کلوک نے بتایا کہ جیوری کو پیش کردہ شواہد اس جانب نشاندہی کرتے ہیں کہ پولیس ملازم ولسن نے ایک ڈکیتی سے نمٹتے ہوئے اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی۔