سیاسی مفاد پرستی کیلئے آندھرا پردیش کو تقسیم کرنے کا الزام

حیدرآباد ۔ 26 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : کارگذار چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے سیما آندھرا کے مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے خلاف وہ نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کے لیے سنجیدگی سے غور کررہے ہیں ۔ سیاسی مفاد پرستی کے لیے ریاست کو تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا ۔ چیف منسٹر کانگریس اور اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے والے کرن کمار ریڈی حالیہ 4 دن سے کانگریس کے برطرف کردہ ارکان پارلیمنٹ ، سیما آندھرا کے وزراء ارکان اسمبلی ، ارکان قانون ساز کونسل سے نئی پارٹی تشکیل دینے پر مشاورت کررہے ہیں ۔

آج انہوں نے امیج گارڈن مادھا پور میں سیما آندھرا کے مختلف یونیورسٹیوں کے جوائنٹ ایکشن کمیٹیوں کا اجلاس طلب کیا اور ان سے تازہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے نئی پارٹی تشکیل دینے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ۔ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ وہ فی الوقت سیاسی طور پر بیروزگار ہیں اور تلگو عوام کی عزت نفس کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے کانگریس پارٹی پر بی جے پی سے ساز باز کرتے ہوئے اسمبلی میں مسترد کردہ بل کو غیر دستوری طریقہ سے پارلیمنٹ میں چوروں کی طرح منظور کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے نا انصافیوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے اور اس کے خلاف جدوجہد کرنے کا طلبہ کی جوائنٹ ایکشن کمیٹیوں کو مشورہ دیا ۔ وہ بھی مستقبل کے بارے میں غور کرنے کا دعویٰ کیا ۔

ملک کی کئی سیاسی جماعتوں نے اسمبلی میں مسترد کردہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کا مشورہ دیا تاہم کانگریس قیادت نے انہیں نظر انداز کردیا ۔ وہ ریاست کی تقسیم کے خلاف کانگریس ہائی کمان کو انتباہ دے چکے ہیں اگر ریاست تقسیم کیا جارہا ہے تو وہ متحدہ آندھرا کی تائید کرنے کا پہلے ہی اعلان کرچکے تھے ۔ عوام کی مرضی کے خلاف ریاست کو تقسیم کردیا ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ چیف منسٹر کانگریس اور اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوچکے ہیں سینئیر پارلیمنٹرین بی جے پی کے سینئیر قائد مسٹر ایل کے اڈوانی نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست دیا جائے ۔ مگر انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں اس طرح کی غلطیوں پر مشتمل بل نہیں دیکھا ۔ سیاسی مفادات کے لیے خفیہ معاہدے کرتے ہوئے ریاست کو تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا ۔ تقسیم میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کا بھی اہم رول ہونے کا دعویٰ کیا ۔ مسٹر کرن کمار ریڈی نے طلبہ سے کہا کہ وہ نئی سیاسی پارٹی تشکیل دینے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کررہے ہیں ۔ انہوں نے کانگریس پارٹی پر ریاست کو تقسیم کرنے کا تلگو دیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی پر اس کی تائید کرنے کا الزام عائد کیا ۔۔