سیاسی جماعتوں کیلئے دھکہ، شہر کے 29 فیصد نوجوانوں کا سیاسی قیادت پر عدم اعتماد

29 فیصد نوجوان رائے دہندی کے خواہاں، 24 فیصد نوجوان ووٹر شناختی کارڈس سے محروم، سروے میں انکشاف
حیدرآباد۔17جون(سیاست نیوز) شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے 29فیصد نوجوانو ںمیں سیاسی قیادت پر اعتماد باقی نہیں ہے اور یہ صورتحال سیاسی جماعتوں کیلئے دھماکو ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اگر 29فیصد نوجوانوں میں رائے دہی کے متعلق دلچسپی نہیں ہے تو اس تعداد میں آئندہ مزید اضافہ ہی ہوگا ۔ حالیہ عرصہ میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق شہری علاقوں کے نوجوانوں میں سیاسی دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے اور حیدرآباد میں 29 فیصد ایسے نوجوان ہیں جنہیں سیاسی سرگرمیوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور 24فیصد ایسے نوجوان ہیں جن کے پاس ووٹر شناختی کارڈ تک موجود نہیں ہے۔فاؤنڈیشن فار فیوچرسٹک سٹیز کی جانب سے کئے گئے سروے کے اس انکشاف سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حیدرآباد میں سیاسی قیادت سے عوام میں بیزارگی پیدا ہونے لگی ہے اور عوام کی خواہشات اور نوجوانوں کے معیار پر سیاسی قیادت اترنے میں ناکام ہے جس کے نتیجہ میں نوجوان نسل سیاسی بیزارگی کا اظہار کرنے لگی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ سیاسی جماعتیں اس رپورٹ کے سلسلہ میں کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ چاہتی ہیں کہ نوجوانوں کو اچھی طرح سے سمجھا جائے لیکن نوجوان نسل سیاسی جماعتوں کے قائدین سے عملی اقدامات کی توقع کئے ہوئے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے ذمہ داروں کی جانب سے ٹوئیٹر اور فیس بک کے ذریعہ نوجوان نسل تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس میں سیاسی جماعتوں کو بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہورہی ہے لیکن اس کامیابی کو مراکز رائے دہی تک لیجانے میں کامیابی نہیں مل پا رہی ہے جو کہ سیاسی قائدین کے لئے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ سرکردہ سیاستدانوں کا کہناہے کہ عوام بالخصوص نوجوانوں کا سیاسی نظام پر سے اعتماد ختم ہونا سیاسی جماعتوں کیلئے ہی نہیں بلکہ ملک کے جمہوری نظام کیلئے کوئی اچھی بات نہیں ہے لیکن اس صورتحال کے باوجود بھی سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے عوامی اعتماد بحال کرنے کے اقدامات نہ کرتے ہوئے اپنے روایتی رائے دہندوں پر توجہ مرکوز کرنا خطرناک رجحان ہے۔بتایاجاتا ہے کہ سیاسی تجزیہ نگاروں کی جانب سے اس رپورٹ کا مزید باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس حقیقت کا پتہ چلایا جاسکے کہ کتنے فیصد نوجوان ایسے ہیں جو سیاسی رائے نہ رکھتے ہوئے بھی رائے دہی میں حصہ لیتے ہیں کیونکہ حیدرآباد میں جس طرح سے اعداد و شمار پیش کئے جا رہے ہیں کہ 29 فیصد نوجوانوں میں سیاسی دلچسپی نہیں ہے اور 21تا24 سال کی عمر کے ان نوجوانوں کی جانب سے صرف سوشل میڈیا کی حد تک سیاست پر بحث کی جاتی ہے اگر یہ تعداد رائے دہی میں تبدیل ہوجاتی ہے اور یہ نوجوان رائے عامہ ہمورا کرتے ہوئے سیاسی نظام سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے رائے دہی میں حصہ لیں اور NOTAکے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں تو اگر کوئی نمائندے منتخب ہو بھی جاتے ہیں تو عوام کو اس بات کا پتہ رہے گا کہ منتخبہ نمائندہ کتنے فیصد عوام کی نمائندگی کرتا ہے اور کتنے فیصد عوام یا رائے دہندوں نے اسے مسترد کیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے ذمہ داروں کی جانب سے نوجوانوں کو اپنی سیاسی جماعتوں کی جانب سے راغب کروانے کے لئے مسائل کا نہیں بلکہ مذہب اور مقدمات کا سہارا لیا جاتارہا ہے لیکن اب نوجوانو ںمیں تعلیم کے فروغ کے باعث صورتحال تیزی سے تبدیل ہونے لگی ہے۔