سیاسی جماعتوں کو الکٹورل بانڈس کے ساتھ دیگر ذرائع سے آمدنی

257 کروڑ مالیتی بانڈس کی حیدرآباد میں فروختگی ، ایس بی آئی سے تفصیلات کی فراہمی
حیدرآباد۔25اپریل(سیاست نیوز) ملک بھر میں مارچ 2019 تک فروخت کئے گئے جملہ 2742 الکٹورل بانڈ جو کہ 1ہزار 365.69کروڑ کے ہیں ان میں 257کروڑ مالیت کے بانڈ شہر حیدرآباد میں فروحت کئے گئے لیکن مارچ 2019 تک ان میں صرف 143کروڑ مالیتی بانڈس کو منہاء کروایا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یکم مارچ سے 15مارچ کے دوران جو بانڈ فروخت کئے گئے ہیں ان میں 18.9 فیصد بانڈ حیدرآباد کے ہیں جبکہ 77فیصد بانڈس کے ساتھ دہلی سرفہرست ہے اور کہا جا رہا ہے کہ دہلی سر فہرست ہونے کی بنیادی وجہ قومی سیاسی جماعتوں کو حاصل ہونے والے الکٹورل بانڈ ہیں ۔ سیاسی جماعتو ںکو دئیے جانے والے چندہ کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے تحت حکومت نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ذریعہ الکٹورل بانڈ کی فروخت کا قانون بنایا ہے اور اس کے بعد سے ملک کی 29اسٹیٹ بینک کی شاخوں پر یہ بانڈ یکم مارچ تا15مارچ فروخت کئے گئے جس میں حیدرآباد میں 257کرو ڑ کے بانڈس کی فروخت عمل میں لائی گئی جس میں عام انتخابات کے باوجود بھی شہر میں صرف 143کروڑ کے بانڈس منہاء کروائے گئے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کو فراہم کی جانے والی امداد اور چندوں کا جائزہ لینے والے ایک ادارہ کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق شہر حیدرآبادکے علاوہ نئی دہلی‘ مہاراشٹری ‘ اڈیشہ اور مغربی بنگال کے علاوہ دیگر 20 ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقو ںمیں الکٹورل بانڈس کی فروخت عمل میں لائی گئی لیکن عام انتخابات سے قبل صرف 5ریاستوں میں ہی بانڈس منہاء کرواتے ہوئے سیاسی جماعتوں نے انہیں حاصل ہونے والے چندوں کا انتخابات میں استعمال کیا ۔مہاراشٹرا میں جہاں 471کروڑ روپئے کے بانڈس فروخت کئے گئے تھے اس ریاست میں صرف 46کروڑ کے بانڈس منہاء کروائے گئے۔ماہرین کا کہناہے کہ سیاسی جماعتو ںکو الکٹورل بانڈس کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی آمدنی کا یہ ثبوت ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں ملک بھر سے وصول کی جانے والی ان رقومات کو منہاء کئے بغیر انتخابی اخراجات کی تکمیل کررہی ہیں ۔ ہندستان میں شروع کی جانے والی الکٹورل بانڈس کی فروخت کے سلسلہ میں کہا جارہاہے کہ اس کے علاوہ بھی دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی امداد کے سبب ہی سیاسی جماعتوں کی جانب سے الکٹورل بانڈس منہاء نہیں کروائے جارہے ہیں۔