ڈاکٹرس، انجینئرس و پیشہ ورانہ ماہر لڑکے لڑکیوں کے رشتے، ایس ایس سی، انٹر کے رشتوں کی بھی بھرمار
حیدرآباد ۔ 21 مارچ (محمد ریاض احمد) مسلم معاشرہ میں لڑکیوں کی شادیاں ایک بہت بڑا مسئلہ بن گئی ہیں۔ ایسے ہزاروں والدین ہیں جو اپنی بیٹیوں کی شادیوں کے مسئلہ کو لیکر کافی پریشان ہیں۔ ان کی آنکھوں سے نیند اڑ چکی ہے۔ معاشرہ میں جوڑے گھوڑے اور جہیز کی لعنت جس تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے اسے دیکھ کر تو غریب والدین پر مایوسی چھا جاتی ہے۔ مصلحین قوم کی لاکھ کوششوں کے باوجود ہم اپنی شادیوں میں بیجا اسراف سے گریز نہیں کرتے۔ لڑکیوں کے مجبور و بے بس والدین پر کم از کم شادی کے دن 1000 تا 1200 مسلمانوں کی پرتکلف ضیافت کا بوجھ ڈالدیتے ہیں۔ جہیز کے نام پر نقدی اور سامان کی شکل میں اپنے گھر بھر لیتے ہیں۔ جہیز گھوڑے جوڑے کے ساتھ ساتھ لڑکے والوں کی جانب سے حسین و جمیل لڑکی کے مطالبہ نے آج ہمارے اپنے شہر میں ہزاروں لڑکیوں کو بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچا دیا ہے۔ اس سنگین مسئلہ کے حل کیلئے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان نے شادی کے رشتوں کیلئے دوبدو پروگرام کا آغاز کیا اور اب یہ پروگرام ایک تحریک میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ادارہ سیاست کی جانب سے نہ صرف شہر بلکہ اضلاع میں بھی رشتوں کے دوبدو پروگرامس کا انعقاد عمل میں آرہا ہے۔ اس مہم کی سب سے اچھی بات یہ ہیکہ لڑکے اور لڑکی والے ملاقات کرتے ہوئے بالمشافہ بات چیت کرتے ہیں۔ اس دوبدو پروگرام کے نتیجہ میں صرف سال 2013ء اور 2014ء کے دوران تقریباً 1100 شادیاں انجام پائیں۔ یہ ایسی شادیاں تھیں جن میں گھوڑے جوڑے اور بیجا رسومات سے اجتناب کیا گیا۔ واضح رہیکہ روزنامہ سیاست نے ملت میں تعلیمی انقلاب برپا کرنے کیلئے تعلیمی تحریک بھی شروع کر رکھی ہے۔ اس تحریک کے غیرمعمولی بہتر نتائج برآمد ہورہے ہیں اور ایسا لگتا ہیکہ ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں والدین بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ خاندان میں ہی بچوں کے درمیان زبردست مسابقت جاری ہے۔ لڑکیاں تعلیم میں لڑکوں سے آگے دکھائی دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر 2013ء میں جن 1858 لڑکیوں کے پروفائل داخل کئے گئے تھے ان میں سے 604 کی شادیاں طئے پائیں۔ ان 1858 لڑکیوں میں 233 لڑکیوں کی تعلیمی قابلیت ایم بی اے، ایم سی اے تھی۔ ان میں سے 55 لڑکیوں کی شادیاں طئے پائیں۔ بی ای، ایم ٹیک، بی ٹیک، ایم ایس کرچکی 53 لڑکیوں کے والدین رشتوں کیلئے سیاست کے ایم ڈی ایف سے رجوع ہوئے تھے۔ ان لڑکیوں میں سے 16 کی شادیاں انجام پائیں۔ 117 ایسی لڑکیاں بھی تھیں، جنہوں نے بی کام، بی ایڈ کیا تھا۔ ان میں سے 29 لڑکیوں کی شادیاں طئے پائیں۔ ایم بی بی ایس لڑکیوں کی تعداد 90 رہی، جس میں سے 26 کے رشتے طئے پائے۔ بی ایس سی بی ایڈ کرنے والی 114 لڑکیوں میں سے 34 کی شادیاں دوبدو پروگرام کے ذریعہ انجام پائیں۔ 39 ایسی لڑکیاں بھی تھیں جنہوں نے بی ایس سی کیا تھا۔ ان میں سے 9 کی شادیاں ہوئیں۔ دیگر مضامین میں پوسٹ گریجویشن کرنے والی 217 لڑکیوں کے والدین و سرپرست سیاست ایم ڈی ایف سے رجوع ہوئے 58 کی شادیاں طئے پائیں۔ بی ای، بی ٹیک کی 67 لڑکیوں کے رشتوں کیلئے اسم نویسیاں پیش کی گئی تھیں ان میں سے 25 لڑکیوں کے رشتے طئے ہوئے۔ بی کام کرنے والی 110 لڑکیوں میں سے 42 کی شادیاں ایم ڈی ایف کے ذریعہ طئے پائیں۔ بی ڈی ایس، بی یو ایم ایس اور فارمیسی کورس کرچکی59 لڑکیوں میں سے 24 کے رشتے طئے پائے۔ بی اے عالمہ کورس کرنے والی 63 لڑکیوں میں سے 14 کی شادیاں سیاست کے دوبدو پروگرام میں طئے ہوئیں۔ 153 لڑکیاں ایسی تھیں جو انڈر گریجویٹ زمرہ میں آتی تھیں جن میں 26 کی شادیاں دوبدو پروگرام میں ہی طئے پائیں۔ ایس ایس سی، انٹر لڑکیوں کی تعداد 273 رہی ان میں سے 73 لڑکیوں کی شادیاں سیاست ایم ڈ ایف کے توسط سے ہی ہوئیں۔ سال 2013ء میں سیاست ایم ڈی ایف سے رجوع ہونے والے لڑکوں میں ایم بی بی ایس، بی یو ایم ایس، بی ڈی ایس، بی فارمیسی، بی ای، بی ٹیک، بی کام، ایم اے، ایم کام، ایم بی اے، ایم سی اے، ایم ٹیک، ایم ایس، ایس ایس سی اور انٹر کرنے والے شامل تھے۔ سال 2013ء میں جملہ 1858 لڑکیوں کے بائیو ڈاٹاس جمع کئے گئے تھے ان میں 604 کی شادیاں ہوئیں۔ اس طرح جو شادیاں طئے پائیں اس کا فیصد 32.508 رہا۔ اسی سال 492 لڑکوں میں سے 239 کی شادیاں ہوئیں۔ اس طرح ان کا فیصد 48.57 درج کیا گیا۔ سال 2014ء میں 1122 میں سے 180 لـڑکیوں کی شادیاں ہوئیں۔ اس کا اوسط 16.04 فیصد بنتا ہے۔ دوسری جانب اس سال 263 لڑکوں میں سے 70 کی شادیاں طئے پائیں جن کا اوسط 26.61 ہوتا ہے۔ اس طرح جملہ 3735 لڑکے لڑکیوں میں سے 1093 کی شادیاں سیاست ایم ڈی ایف کے ذریعہ انجام پائیں۔ اس طرح ہر ماہ 46 شادیاں ہوئی ہیں جو سارے ملک میں ایک مثالی اقدام ہے۔ سیاست کی اس مہم سے ملت میں جہیز کی لعنت سے بچنے کیلئے شعور بھی بیدار ہورہا ہے۔