ہندوستان میں اسلامی فن خطاطی کے احیاء میں جناب زاہد علی خاں کی کوششوں کی ستائش
سیاست اخبار نہیںایک تحریک، قطر کی وزارۃ الاوقاف کے اعلیٰ عہدیدار سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 18 اپریل ۔ حیدرآبادی مسلمانوں کی خوشحالی، مذہب سے ان کی دلچسپی، سارے عالم اسلام کے تئیں ان کی محبت کے مظاہرہ کو دیکھ کر بے انتہاء مسرت ہوئی ہے اور یہ جان کر بہت زیادہ خوشی اور اطمینان کا احساس ہوا کہ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی یاد دلانے والے ہندوستان کے اس تاریخی شہر میں اخبار سیاست جیسا ادارہ اور ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں جیسی ملت کی ہمدرد شخصیت ایڈیٹر سیاست سے گفتگو، ادارہ سیاست کے مختلف شعبوں کے معائنے اور اس کی جانب سے انجام دی جارہی فلاحی خدمات کا جائزہ لینے کے بعد یہی کہا جاسکتا ہیکہ سیاست ایک اخبار ہی نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، جس کے ذریعہ مسلمانوں اور ضرورتمندوں کی زندگی کے مختلف شعبوں میں بھرپور مدد کی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار قطر کے ممتاز عالم دین، داعی اور وزارت اوقاف کے اعلیٰ عہدیدار فضیلتہ الشیخ الدکتور موافی محمد عزب داعی اسلامی کبیر فی وزارۃ الاوقاف والشؤن الاسلامیہ خبیر شرعی یا ادارۃ الدعوہ والارشاد الدینی نے کیا۔ سیاست کو انٹرویو دیتے ہوئے دکتور محمد عزب نے کہا کہ تمام انسانوں تک دین کا پیام پہنچانا ہم سب کا فریضہ ہے۔ پیشہ صحافت کو انہوں نے ایک مقدس امانت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت دعوت دین کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعہ لاکھوں کروڑوں بندگان خدا تک اسلام کا پیام انسانیت پہنچایا جاسکتا ہے۔ امن و سکون اور قلب اطمینانی کیلئے تڑپتی و بلکتی دنیا کو سیرت النبی ﷺ سے واقف کرواتے ہوئے یہ بتایا جاسکتا ہیکہ قرآنی تعلیمات اور سیرت النبی ﷺ تمام انسانوں کیلئے رحمت ہی رحمت ہے۔ الدکتور محمد عزب نے جو قطر میں غیرمسلم باشندوں میں دین اسلام کی تبلیغ و ترویج کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شہر حیدرآباد میںاسلامی تہذیب اور اس تاریخی آثار کا مشاہدہ کرتے ہوئے انہیں بہت خوشی ہوئی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کرتے ہوئے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر امام و محفیظ فی وزارت الاوقاف السون الاسلامیہ بدولہ قطر جناب اشتیاق احمد اسعدی اور صفا بیت المال حیدرآباد کے سربراہ مولانا غیاث احمد رشادی موجود تھے۔ شیخ دکتور موافی محمد عزب حیدرآباد میں مولانا غیاث احمد رشادی کے مہمان ہیں۔ شیخ کو جناب زاہد علی خاں نے سیاست کے فن خطاطی کے شہ پاروں کا مشاہدہ کروایا جسے دیکھ کر قطری مہمان حیران رہ گئے۔ وہ فن خطاطی اور اسلامی مصوری کے شاہکاروں میں سے چند چوبی نمونوں کو دیکھ کر دیکھتے ہی رہ گئے۔ ان نمونوں میں حرمین شریفین اور اس کے اطراف کی آبادیوں کو لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے ذریعہ اس انداز میں پیش کیا گیا ہے دیکھنے والوں کی زبان سے ماشاء اللہ، سبحان اللہ جیسے بابرکت کلمات ادا ہوجاتے ہیں۔ اس موقع پر شیخ موافی محمد عزب نے مملکت قطر میں اس طرح کے فن پاروں کی نمائش کے اہتمام کا مشورہ دیا اور کہا کہ یہ ایسے فن پارے ہیں جن کی نمائش سے قطری شہری اور مختلف ممالک کے تارکین وطن اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا سکتے ہیں اور اپنے ذہن و قلوب میں اس کی حلاوت محسوس کرسکتے ہیں۔ خطاطی کے یہ نمونے قلب و روح کی گہرائی میں اترنے والے ہیں۔ قطری مہمان نے دکن ریڈیو اور اس پر پیش کئے جانے والے کمیونٹی پروگرامس کے ساتھ ساتھ ادارہ سیاست کی جانب سے قرأت و تجوید کی تیار کردہ سی ڈیز کے بارے میں جان کر بھی خوشنودی کا اظہار کیا۔ جب انہیں بتایا گیا کہ روزنامہ سیاست مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے اقلیتی طلبہ کو دی جانے والی اسکالر شپس کے حصول میں طلبہ کی نہ صرف رہنمائی کرتا ہے بلکہ شادی مبارک اسکیم سے استفادہ کیلئے مسلمانوں میں بھی اس نے ایک تحریک شروع کر رکھی ہے تو انہوں نے سیاست کے حق میں دعا کرتے ہوئے کہا کہ اس کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ شیخ موافی محمد عزب نے سیاست کے دوبدو پروگرامس، کینسر کے مریضوں کی مدد، غریب طلبہ کی مالی امداد، پولیس میں مسلم نوجوانوں کی بھرتیوں دیگر محکمہ جات میں ملازمتوں کیلئے ان کی تربیت و رہنمائی اور مسلم ہونہار طلبہ کو آئی اے ایس، آئی پی ایس بنانے کیلئے شروع کردہ پہل کے بارے میں جان کر ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس طرح کے کام تو حکومتیں کرتی ہیں۔ سیاست کی بے لوث ملی خدمات دوسرے ملکوں میں سرگرم فلاحی و رضاکارانہ تنظیموں کیلئے ایک بہترین مثال ہے۔ فضیلتہ الشیخ الدکتور موافی محمد عزب کے ہمراہ آئے محترم اشتیاق محمد اسعدی نے بھی شیخ کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں روزنامہ سیاست جو ملی و قومی خدمات انجام دے رہا ہے اس کا جواب نہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ سیاست کی طرح اگر ہندوستان میں مزید کچھ ادارے کام شروع کردیں تو مسلمانوں کی تعلیمی معاشی ترقی یقینی ہوجائے گی۔ دکتور موافی محمد عزب نے جناب زاہد علی خاں کی جانب سے شادیوں میں ایک کھانا ایک میٹھا کیلئے شروع کردہ تحریک پر بھی حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کی تحریک ساری دنیا میں چلائی جانی چاہئے کیونکہ شادیوں میں بیجا اسراف سے بچتے ہوئے مسلمان اپنے غریب بھائیوں کی مدد کرسکتے ہیں۔ انہوں نے منیجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیرالدین علی خاں سے بھی ملاقات کی اور بتایا کہ قطر میں سیاست اردو دان تارکین وطن کا پسندیدہ اخبار ہے۔ جناب زاہد علی خاں نے انہیں فن خطاطی کا ایک نمونہ بطور ہدیہ پیش کیا۔