ممبئی ۔3 ۔فبروری (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدرجمہوریہ محمد حامد انصاری نے آج کہاکہ سکیولرازم کی اصطلاح کا صرف ایسی مملکت پر اطلاق ہوتا ہے جس کا اپنا کوئی مذہب نہ ہو۔ اُن کا یہ بیان سیاسی پارٹیوں کے درمیان ایک اشتہار کے بارے میں جاری تنازعہ کے پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے دستور کے دیباچہ کی تصویر کے ساتھ ایک اشتہار جاری کیا تھا جو دستور کے دیباچہ میں 42 ویں ترمیم سے پہلے کا تھا۔ اِس میں الفاظ ’’سکیولر‘‘ اور ’’سوشلسٹ‘‘ استعمال نہیں کئے گئے تھے۔ نائب صدرنے کہاکہ سکیولرازم کے لفظ کا ہم کیا مطلب سمجھتے ہیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ جس میں مختلف عقائد کے لوگ شانہ بشانہ زندگی بسر کررہے ہیں، ہر ایک کے لئے چیلنج یہ ہے کہ سرکاری اعتبار سے سکیولرازم کا مطلب یہ ہے کہ ’’مملکت کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘‘۔ حامد انصاری نے ولسن کالج جنوبی ممبئی کے طلبہ کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران اپنا یہ تاثر ظاہر کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ مملکت کو مذہب کی بنیاد پر شہریوں کے درمیان فرق و امتیاز نہیں کرنا چاہئے۔ جب بھی ترقیاتی پروگراموں اور وظائف کا سوال آتا ہے مملکت کو معروضی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہئے۔
مذہب، صنف یا نسل کی بنیاد پر نہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ صنفی فرق و امتیاز ایک ایسی بیماری ہے جس میں ہمارا معاشرہ مبتلا ہے۔ صدرنشین راجیہ سبھا نے کہاکہ اِس مسئلہ کی سماجی یکسوئی ضروری ہے۔ صنف کی بنیاد پر تعصب قانونی لحاظ سے ممنوع ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ معاشرہ مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہے اور اِن میں سے ایک صنفی تعصب بھی ہے۔ یہ ایک چیلنج ہے۔ اِس کی سماجی یکسوئی ضروری ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ قانونی یکسوئی ہو۔ قانونی اعتبار سے جو کچھ ممکن تھا ہم کرچکے ہیں۔ قوانین وضع کئے گئے ہیں۔ تعصب کے لئے جرمانوں کا تعین کیا گیا ہے لیکن ہمیں معلوم ہے کہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہورہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ہر شہری کا فرض ہے کہ دستور کے جذبہ کا وفادار رہے۔ دستور کا نظریہ اِس کے متن میں موجود ہے۔ بحیثیت شہری ہر ایک کو تہہ دل سے دستور کا لفظاً و معناً وفادار ہونا چاہئے۔