سکیوریٹی فورسیس کے خصوصی اختیارات پر فیصلہ زیرغور نہیں

جموں ،21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) یہ شکایت کرتے ہوئے کہ پاکستان اپنی روش تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہے، مرکزی مملکتی وزیر جتندر سنگھ نے آج یہ ادعا کیا ہے کہ مرکز، دہشت گردی کی کسی بھی شکل کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور کہاکہ سکیوریٹی فورسیس کے خصوصی اختیارات (AFSPA) پر کوئی بھی فیصلہ سیاسی نقطہ نظر سے نہیں کیا جائے گا، جتندر سنگھ جوکہ دفتر وزیراعظم میں مملکتی وزیر ہیں، کہا ہے کہ میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی نظریات کے قطع نظر ازسرنو غور و فکر کریں اور سکیوریٹی فورسیس کے خصوصی اختیارات جیسے حساس مسائل پر فیصلے میں احتیاط برتیں اور سیاسی ضروریات کے بجائے سکیوریٹی فورسیس کے حوصلوں کو پیش نظر رکھا جائے۔ اُنھوں نے جموں و کشمیر میں شورش پسندی کی روک تھام میں پاکستان کی ناکامی پر تنقید کی اور کہاکہ پاکستان اپنی قدیم روش پر برقرار ہے اور اُسے سدھارنے کیلئے آمادہ نہیں ہے۔ اُنھوں نے پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے دیئے گئے بیان کا حوالہ دیا کہ موجودہ حکومت کی یہ پالیسی ہے کہ دہشت گردی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہم اس پالیسی پر کاربند رہیں گے۔ یہ ادعا کرتے ہوئے مرکزی حکومت کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہر طریقہ سے تیار ہے۔ کٹھوا میں دہشت گردانہ حملہ میں زخمیوں کی عیادت کیلئے جتندر سنگھ نئی دہلی سے جی ایم سی ہاسپٹل پہونچے ہیں۔ اس حملہ کی مذمت کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل تیار ہے اور دہشت گردانہ حملوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ دریں اثناء ریاستی وزیر صحت چودھری لال سنگھ نے آج بتایا کہ ایسے وقت جبکہ ریاست میں دہشت گردانہ حملے جاری ہیں سکیوریٹی فورسیس کے خصوصی اختیارات سے دستبرداری کی کارروائی کو ملتوی کردیا جائے۔ اُنھوں نے سکیوریٹی فورسیس کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی سرحد سے عسکریت پسندوں کی گھس پیٹھ کیسے ممکن ہوسکی۔
پاکستان کیساتھ مرکز کا نرم موقف : کانگریس
جموں، 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج جموں و کشمیر کے اضلاع کٹھوا اور سامبا میں دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی ہے اور کہاکہ جموں و کشمیر میں اس طرح کے حملے روکنے سے سکیوریٹی فورسیس بھی قاصر ہے جبکہ یہ الزام عائد کیاکہ پاکستان کے بارے میں مرکز نے انتہائی نرم موقف اختیار کیا ہے۔ سینئر کانگریس لیڈر اور سابق ریاستی وزیر شام لال شرما نے آج کہاکہ عسکریت پسند اس طرح کے حملہ کرتے ہوئے اپنے وجود کا احساس دلارہے ہیں اور پاکستان کو چاہئے کہ ہندوستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے بجائے عسکریت پسندوں کی سرپرستی سے باز آجائے۔