نئی دہلی 15 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر جی این سائی بابا کے ماؤیسٹوں سے تعلقات کی بنا پر ان کی گرفتاری کے خلاف نکسلائیٹس کی اعلی قیادت نے اپنے کیڈر کو ہدایت دی ہے کہ وہ سکیوریٹی فورسیس پر حملے کریں۔ نکسلائیٹس متاثرہ ریاستوں کیلئے ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے وزارت داخلہ نے کہا کہ سی پی آئی ( ماؤیسٹ ) نے اپنے مسلح کارکنوں کو خاص طور پر ڈنڈا کرنیہ علاقہ کے کارکنوں کو ہدایت دی ہے کہ سکیوریٹی فورسیس کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے ۔ ماؤیسٹوں نے حالانکہ سر عام تردید کی ہے کہ سائی بابا کا ان سے کوئی تعلق رہا ہے ۔ سی پی آئی ( ماؤیسٹ ) نے موافق نکسلائیٹ کارکنوں
اور ماہرین تعلیم سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ پروفیسر سائی بابا کی رہائی کیلئے دہلی اور دوسرے مقامات پر احتجاج کریں ۔ علاوہ ازیں ماؤیسٹوں کے کچھ کارکنوں نے میڈیا میں اپنے ہمدردوں سے بھی رابطہ کیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ میڈیا میں سائی بابا کی جسمانی معذوری اور پولیس تحقیقات کے خلاف تشہیر کریں۔ کہا گیا ہے کہ انٹلی جنس اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ سی پی آئی ماؤیسٹ کی قیادت دہلی یونیورسٹی پروفیسر کی گرفتاری پر تشویش کا شکار ہے ۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران سکیوریٹی فورسیس کو سخت ترین چوکسی اختیار کرنی چاہئے اور عصری دھماکو مادوں کے حملوں کے تعلق سے بھی چوکسی برتی چاہئے ۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ اس کے اندازوں کے مطابق آئندہ چند ماہ کے دوران روپوش نکسلائیٹ کیڈرس کی سرگرمیاں جارحانہ ہوسکتی ہیں
اور وہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہ کر ایسا کچھ کرسکتے ہیں جس کے ذریعہ سائی بابا مسئلہ پر حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے مسئلہ پر اپنے ہمدردوں کے ذریعہ پروپگنڈہ مہم شروع کی جاسکتی ہے ۔ وزارت داخلہ کی رپورٹ میں کہا گیا ان انٹلی جنس اطلاعات کی روشی میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ ریاستی حکومتیں اس مسئلہ پر سخت چوکسی برتیں اور ضروری احتیاطی اقدامات کئے جائیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ مشورے نکسلائیٹ متاثرہ ریاستوں آندھرا پردیش ‘ بہار ‘ چھتیس گڑھ ‘ جھارکھنڈ ‘ مدھیہ پردیش ‘ مہاراشٹرا ‘ اوڈیشہ ‘ اتر پردیش اور مغربی بنگال کو روانہ کئے گئے ہیں۔ سائی بابا کو مہاراشٹرا پولیس نے 9 مئی کو گرفتار کیا تھا اور الزام عائد کیا ہے کہ ان کے ماؤیسٹوں سے تعلقات ہیں۔