اشرار کی گواہی پر پولیس نے اسکراپ ڈیلر کو کشن باغ کیس میں ملزم بنایا
حیدرآباد ۔17 ۔ جون ۔ (سیاست نیوز) کشن باغ عرش محل کے فرقہ وارانہ تشدد کے ایک ماہ بعد آج راجندر نگر پولیس نے سکھ طبقہ کے پرچم کو نذر آتش کرنے کے کیس میں مقامی اسکراپ کے کاروباری محمد جہانگیر کو گرفتار کرلیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس تشدد میں بی ایس ایف فائرنگ میں تین مسلمان جاں بحق اور 17 افراد زخمی ہونے کے باوجود راجندر نگر پولیس نے سکھ اشرار کو محمد جہانگیر کے خلاف چشم دید گواہ بنایا ہے۔ ڈپٹی کمشنر پولیس شمس آباد زون مسٹر رمیش نائیڈو آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 13 اور 14 جون کی درمیانی رات کو سکھ چھاؤنی عرش محل میں مقامی اسکراپ کا تاجر محمد جہانگیر اسکراپ تانبہ کے تاروں کو پگھلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اتفاقاً اس کے مکان کے قریب موجود نشان صاحب جزوی طور پر جھلس گیا ۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جہانگیر نے لاپرواہی سے اسکراپ کے تار کو جلا رہا تھا ، جس کے سبب یہ واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ نشان صاحب کو جزوی طور پر جھلس جانے کے دوران جہانگیر نے آگ کو قابو میں لانے کی کوشش کی لیکن وہاں کے مقامی افراد نانک سنگھ اور بہادر سنگھ نے اس کی اس حرکت کو دیکھ لیا تھا ۔ سکھ طبقہ کی برہمی کے خدشے کے پیش نظر محمد جہانگیر اپنے افراد خاندان کے ہمراہ فرار ہوگیا جبکہ پولیس نے سکھ اشرار کی جانب سے مقامی مسلمانوں پر تلواروں سے حملہ کرنے اور مکانات کو نذر آتش کرنے کے واقعہ میں مذکورہ افراد کے خلاف کارروائی کی تھی اور وہ کئی مقدمات میں ملوث ہونے پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا اور وہ ہنوز محروس ہیں۔