سکھ اشرار آزاد ،مسلم نوجوانوں پر مقدمہ

جاں بحق 3 افراد پر بھی دو مقدمات درج

حیدرآباد۔15 مئی (سیاست نیوز) پرانے شہر کے کشن باغ سکھ چھاؤنی علاقہ میں مذہبی نشان کو نقصان پہونچانے کے واقعہ کے نتیجہ میں بھڑک اٹھے فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق راجندر نگر پولیس نے پانچ مختلف مقدمات درج کئے ہیں اور خاطی سکھ اشرار کی نشاندہی کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ حملہ آوروں کی شکایت پر بھی پولیس نے مسلم نوجوانوں پر مقدمہ درج کیا ہے اور پولیس فائرنگ میں جاں بحق ہوئے تین افراد سے متعلق دو مقدمات درج کئے ہیں۔ باوثوق ذرائع نے کہا کہ راجندر پولیس نے کرائم نمبر 387/2014 ( محمد شجاع الدین خطیب اور محمد فرید) کرائم نمبر 388/2014 (محمد واجد علی) کی ہلاکتوں سے متعلق مقدمہ دو مقدمات سی آر پی سی کی دفعہ 176 (پولیس تحویل میں موت واقع ہونا) درج کرتے ہوئے پولیس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کشن باغ کے علاقہ عرش محل میں مذہبی نشان کو نقصان پہونچائے جانے کے واقعہ کے بعد بھڑک اٹھے تشدد میں فسادیوں نے پولیس پر سنگباری کی اور ان کے ہتھیار چھین لینے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ہربن سنگھ عرف پردھان کی شکایت پر مسلم نوجوانوں کے خلاف اقداماتِ قتل اور دیگر سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ خواجہ حسام الدین مقامی سماجی کارکن کی شکایت پر ہربن سنگھ عرف پردھان، دھرمیندر، نانک سنگھ، گرمیت چرن سنگاری، نیرو، چھوٹو، بنٹو، ہرو سنگھ، گوپال سنگھ اور دیگر کے خلاف اقدام قتل اور آرمس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مزید گرفتاریوں کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔