آکلینڈ 17 مارچ ( سید مجیب کی رپورٹ ) آکلینڈ میں زمبابوے کے ساتھ ورلڈ کپ کرکٹ میچ دیکھنے کی سکھ طبقے کے پانچ نوجوانوں کو جو کرپان کے ساتھ آڈیٹوریم میںداخل ہونا چاہتے تھے اجازت نہیں دی گئی ۔ حالانکہ سکھ نوجوانوں نے ادعا کیا کہ کرپان ساتھ رکھنا اُن کے مذہبی ارکان میں سے ایک ہے ۔ یہاں تک کہ وہ نہاتے وقت بھی کرپان اپنے جسم سے علحدہ نہیں کرتے لیکن انتظامیہ کا ادعا تھا کہ اس کی نظر میں یہ ایک ہتھیار ہے اور اس کے ساتھ ان افراد کو ورلڈ کپ دیکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اُن کی اصرار پر پیشکش کی گئی کہ اگر وہ کرپان انتظامیہ کے پاس جمع کروادیں تو انہیں بالکل محفوظ رکھا جائے گا اور میچ کے اختتام پر آڈیٹوریم سے واپس جاتے وقت یہ نوجوان اپنا کرپان منتظمین سے حاصل کرسکتے ہیں لیکن سکھوں نے کرپان ساتھ رکھنے پر اصرار کیا اور کہا کہ نیوزی لینڈ کا قانون کرپان پر امتناع عائد نہیں کرتا ۔ آسٹریلیا میں بھی سکھ نوجوانوں کو ورلڈ کپ میچ دیکھتے وقت کرپان ساتھ رکھنے کی اجازت دی جاتی ہے اور امتناع عائد کرنے کی صورت میں وہ قانونی کارروائی کی دھمکی دینے لگے ۔ اس پر انتظامیہ نے انہیں ٹکٹ کی رقم واپس کرنے کی پیشکش کی لیکن وہ اس پر بھی تیار نہیں ہوئے ۔ مبینہ طور پر سکھ نوجوانوں نے کرکٹ میچ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔