سکندرآباد میں لنچ تک بمشکل صرف 22 فیصد رائے دہی ریکارڈ

حیدرآباد ۔ /11 اپریل (سیاست نیوز) حلقہ پارلیمنٹ سکندرآباد میں لنچ تک اوسط رائے دہی بمشکل 22 فیصد رہی اور ایک وقت یہ 11 فیصد رہی ۔ اس طرح سکندرآباد میں رائے دہی کا فیصد بہت کم رہا ۔ حلقہ سکندرآباد میں رائے دہی میں بہت سست روی دیکھی گئی ۔ کئی پولنگ اسٹیشنس پر صبح 7 تا ایک بجے دن 10 تا 22 فیصد ہی رائے دہی ریکارڈ کی گئی اور لنچ تک رائے دہی کا اوسط صرف 22 فیصد رہا ۔ پولنگ آفیسرس نے کہا کہ اس حلقہ میں لنچ تک رائے دہی سست رہی ۔ 11 بجے دن تک کئی پولنگ اسٹیشنس میں 10 تا 15 فیصد رہی اور دوبئی گیٹ کے قریب پولنگ اسٹیشن 109 پر ابتدائی تین گھنٹوں کے دوران جملہ 1138 ووٹ کے منجملہ صرف 65 ووٹ ڈالے گئے ۔ پولنگ آفیسرس نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ لنچ کے بعد پولنگ میں تیزی آئے گی اور اس کے فیصد میں اضافہ ہوگا ۔ ریاست میں اوسط رائے دہی 23 فیصد تھی جبکہ سکندرآباد میں 11.06 فیصد ریکارڈ کی گئی ۔ رائے دہی میں سست رفتاری پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق و شہری ترقی اروند کمار نے ٹوئیٹ کیا کہ ’’ امید ہے کہ اس میں تیزی آئے گی ‘‘ ۔ اس کے بعد انہوں نے جوبلی ہلز روڈ نمبر 45 پر پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ استعمال کیا ۔ کئی پولنگ اسٹیشنس پر نوجوان اور درمیانی عمر کے اشخاص لنچ تک بہت کم دیکھے گئے ۔ زیادہ تر مقامات پر عمر رسیدہ اشخاص ہی دیکھے گئے ۔ اس طرح اے وی کالج دومل گوڑہ میں ایک 92 سالہ خاتون ریٹائرڈ آئی آئی ٹی پروفیسر نے وہیل چیر پر اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔ عنبرپیٹ میں ملکارجن نگر کا ساکن ووٹر چکراپانی کو فہرست رائے دہندگان میں اس کا نام نہ ہونے پر مایوسی ہوئی ۔ اس نے کہا کہ اس نے اسمبلی انتخابات میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا تھا ۔ لیکن اب اس کا نام فہرست رائے دہندگان میں نہیں ہے ۔