سکریٹری انچارج اے آئی سی سی تلنگانہ کانگریس امور کا آج سے دورہ اضلاع

رکنیت سازی مہم کا جائزہ اور گاندھی بھون میں اجلاس سے خطاب
حیدرآباد ۔ 15 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : سکریٹری انچارج اے آئی سی سی تلنگانہ کانگریس امور مسٹر کنٹیا 16 تا 21 دسمبر تک اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے پارٹی کی رکنیت سازی مہم کا جائزہ لیں گے اور 21 دسمبر کو گاندھی بھون میں ریاستی سطح کا اجلاس ہوگا ۔ پارٹی کی کارکردگی پر نائب صدر راہول گاندھی کو رپورٹ پیش کردی گئی ہے ۔ کانگریس پارٹی ہائی کمان تلنگانہ کانگریس کمیٹی کی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھی ہوئی ہے ۔ اے آئی سی سی ایس سی سیل کے صدر کے راجو نے تلنگانہ کانگریس کی سرگرمیوں پر راہول گاندھی کو ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے تنظیم جدید اور تبدیلیوں کی رپورٹ پیش کی ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کانگریس ہائی کمان کی ہدایت پر اے آئی سی سی سکریٹری انچارج تلنگانہ مسٹر کنٹیا کو اپنی ساری توجہ تلنگانہ پر مرکوز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ حیدرآباد میں قیام کئے ہوئے ہیں ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر پنالہ لکشمیا کے علاوہ دیگر قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے پارٹی کی رکنیت سازی مہم کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ اضلاع میں پارٹی کی رکنیت سازی مہم میں شدت پیدا کرنے کے لیے وہ 16 دسمبر کو ضلع نظام آباد سے اپنے دورے کا آغاز کریں گے جب کہ 17 دسمبر کو ضلع محبوب نگر 18 دسمبر کو حیدرآباد سٹی 19 دسمبر کو ضلع نلگنڈہ اور 20 دسمبر کو ضلع ورنگل کے اضلاع کانگریس کمیٹیوں کا جائزہ لیں گے ۔ 21 دسمبر کو گاندھی بھون میں ریاستی سطح کا جلاس طلب کرتے ہوئے پارٹی کی رکنیت سازی مہم کا جائزہ لیں گے ۔ اضلاع صدور کو اپنے اپنے اضلاع کے ہیڈکوارٹرس پر اضلاع کانگریس کمیٹیوں کا جائزہ اجلاس طلب کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے ۔ اضلاع کانگریس کمیٹیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر تیاریوں کا آغاز بھی کردیا گیا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ایک ہفتہ قبل اے آئی سی سی ایس سی سیل کے صدر مسٹر کے راجو حیدرآباد کے دورے پر تھے ۔ انہوں نے راست اور خفیہ طور پر پارٹی کے کئی قائدین سے ملاقات کرنے کے علاوہ ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ کئی قائدین نے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر پنالہ لکشمیا کے انداز کارکردگی پر اعتراض ظاہر کیا ہے ۔ کئی قائدین نے پنالہ کو صدر برقرار رکھتے ہوئے نئی تلنگانہ کانگریس کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی ہے ۔ ساتھ ہی پردیش کانگریس کمیٹی کے تمام محاذی تنظیموں کے صدور کو بھی تبدیل کرنے پر غور کیا جارہا ہے ۔۔