3 سال کے دوران نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کا وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔5 نومبر (سیاست نیوز) سکریٹری اے آئی سی سی و سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے زبردستی سکریٹریٹ تعمیر کرنے کی صورت میں جان کی قربانی دینے سے بھی گریز نہ کرنے کا انتباہ دیا۔ تین سال کے دوران کتنے نوجوانوں کو ملازمت فراہم کی گئی اس پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وی ہنمنت راؤ نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر غیرجمہوری طرزعمل اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور شہر کے عوام نیا سکریٹریٹ تعمیر کرنے کے خلاف ہیں۔ شہر حیدرآباد میں ان کی جانب سے انعقاد کئے گئے بیالٹ پیپر رائے دہی میں 99 فیصد نیا سکریٹریٹ تعمیر کرنے کی مخالفت کی ہے۔ کے سی آر شاہی حکومت میں نہیں ہے۔ جمہوری حکومت میں عوام کے خدمت گذار ہیں مگر وہ ڈائرکٹر بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ سکریٹریٹ کو نہ آنے والے کے سی آر تاریخ کے پہلے چیف منسٹر ہیں۔ موجودہ سکریٹریٹ ہی انہیں پسند نہیں ہے تو نئے سکریٹریٹ کی کیا ضرورت ہے۔ اپنی ضد اور عیش و عشرت کیلئے چیف منسٹر عوامی فنڈز پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔ یہی فنڈز ڈبل بیڈروم مکانات پر خرچ کئے جاسکتے ہیں۔ کم از کم اس سے غریب عوام کو رہنے چھت ملے گی۔ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں جو بھی وعدے کئے گئے ان میں ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا گیا۔ ہر گھر کو ایک ملازمت فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ اقتدار کے ساڑے تین سال مکمل ہونے کے باوجود بیروزگار نوجوانوں سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ ہنمنت راؤ نے ٹی آر ایس کے دورحکومت میں کتنے افراد کو ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں اس پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ عوام انتخابات کا بڑی بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ اگر چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے عوام کی مرضی کے خلاف زبردستی سکریٹریٹ تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنی زندگی قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔