سکریٹریٹ میں چیف منسٹر کے اجلاس کی صفائی

حیدرآباد ۔ 17 فبروری ۔ (سیاست نیوز ) ریاستی چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی 18 فبروری کو کسی بھی وقت اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ چیف منسٹر کا یہ موقف آج اس وقت واضح ہوگیا جبکہ مسٹر این کرن کمارر یڈی نے پنی پیشی کے تمام عہدیداروں کے تبادلے کرتے ہوئے احکامات بھی جاری کئے ۔ اس کے علاوہ چیف منسٹر پیشی میں پائے جانے والے بعض اہم فائیلس و دیگر اشیاء وغیرہ کو بھی پیشی کے اسٹاف نے گاڑیوں میں ڈال کر چیف منسٹر کی قیامگاہ منتقل کرتے دیکھے گئے ۔ اسطرح سکریٹریٹ میں واقع چیف منسٹر کا اجلاس وغیرہ مکمل صاف کردیا گیا ۔ اسی دوران ریاستی وزیر سماجی بہبود مسٹر پی ستیہ نارائنا نے بھی اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران واضح کردیا کہ لوک سبھا میں تلنگانہ بل پر جیسے ہی 18 فبروری کو مباحث شروع ہوں گے کسی تاخیر کے بغیر چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی اپنے عہدے سے استعفیٰ پیش کریں گے ۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ریاست کی تقسیم کے سلسلہ میں انتہائی زیادتی کررہی ہے جس کے باعث ہمارے لئے اب کانگریس پارٹی میں برقرار رہنا ہرگز ممکن نہیں ہے ۔ لہذا چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی سیاست میں برقرار رہنے کیلئے جو کوئی بھی فیصلہ کریں گے ہم تمام (ان کے حامی ) اس فیصلہ کے پابند رہتے ہوئے مسٹر کرن کمار ریڈی کے ساتھ اپنی سیاسی زندگی کو جاری رکھیں گے ۔ وزیر موصوف نے مزید انکشاف کیا کہ چیف منسٹر کیمپ آفس پر اتوار یعنی 16 فبروری کی شب منعقدہ اجلاس میں شریک تمام وزراء ، ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل نے متفقہ طورپر چیف منسٹر کے استعفیٰ دینے کیلئے باقاعدہ طورپر قرارداد منظور کی گئی ۔
اس سوال پر کہ آیا مسٹر کرن کمار ریڈی نئی پارٹی تشکیل دیکر پارٹی کو چلانے کے موقف میں ہیں ؟ جواب دیتے ہوئے مسٹر پی ستیہ نارائنا نے کہا کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی تشکیل دیئے جانے پر مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کو زاید از (50)کروڑ روپئے کے عطیات وصول ہوئے تھے اسی طرح مسٹر کرن کمار ریڈی کی جانب سے تشکیل دی جانے والی نئی پارٹی کو بھی بھاری عطیات حاصل ہونے کی قوی امید ظاہر کی۔