حکومت کے فیصلے پر صحافتی گوشوں میں بے چینی ، چیف منسٹر کے بلاک کے روبرو خاموش احتجاج
حیدرآباد۔/20فبروری، ( سیاست نیوز) ریاستی سکریٹریٹ میں میڈیا کے داخلے پر امکانی پابندی سے متعلق حکومت کے فیصلے کے خلاف صحافتی گوشوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ میڈیا سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے آج سکریٹریٹ میں چیف منسٹر کے بلاک کے روبرو خاموش احتجاج منظم کیا۔ الکٹرانک میڈیا اور فوٹو گرافرس کی کثیر تعداد نے اپنے کیمرے زمین پر رکھتے ہوئے 15منٹ سے زائد تک خاموش احتجاج کیا اور حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت کی۔ صحافیوں کا کہنا تھا سکریٹریٹ میں میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کرنے سے آزادی صحافت کی خلاف ورزی ہوگی۔ اسی دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس مسئلہ پر صحافیوں کی تنظیموں اور مختلف اخبارات اور الکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ کل ہفتہ کے دن پریس اکیڈیمی کے دفتر میں ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اجلاس میں سکریٹریٹ میں میڈیا پر پابندی سے متعلق حکومت اپنے موقف کی وضاحت کرے گی اور صحافیوں کی رائے حاصل کی جائے گی۔ پریس اکیڈیمی کے صدر نشین الم نارائنا نے اس اجلاس کا اہتمام کیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر 2بجے دن اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں صحافیوں کے مسائل بشمول ہیلت کارڈز کی اجرائی اور اراضی کے الاٹمنٹ جیسے اُمور کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ نئی دہلی کی عام آدمی پارٹی حکومت کے اقدام کو اپناتے ہوئے تلنگانہ حکومت نے بھی سکریٹریٹ میں میڈیا کے داخلہ پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اندرون ایک ہفتہ احکامات کی اجرائی کا امکان ہے تاہم اس فیصلہ کے بارے میں اطلاع ملتے ہی صحافیوں کی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کا آغاز ہوگیا۔ بتایاجاتا ہے کہ وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے میڈیا کے رویہ کی شکایت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ حکومت نے اس سلسلہ میں بعض دیگر ریاستوں سے بھی تفصیلات حاصل کی ہیں جہاں کے سکریٹریٹ میں میڈیا کے داخلہ پر تحدیدات ہیں۔ حکومت کی تجویز ہے کہ کسی بھی سرکاری سرگرمی کے بارے میں میڈیا کو طلب کرنے کے بجائے ای میل کے ذریعہ تمام تفصیلات اور تصاویر روانہ کردی جائیں گی۔ اس کے علاوہ کسی وزیر یا عہدیدار سے ملاقات کیلئے میڈیا کے نمائندوں کو قبل از وقت اپوائنٹمنٹ حاصل کرنا ہوگا۔