سڈنی واقعہ کی فارنسک تحقیقات جاری

سڈنی ۔ 17ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) سڈنی پولیس کے فارنسک افسران نے 16 گھنٹے طویل جاری رہنے والے یرغمالی ڈرامے کے مقام لینڈٹ چاکلیٹ کیفے جہاں دو افراد اور ایک اسلامی بندوق بردار ہلاک ہوگئے تھے ۔ مذکورہ چاکلیٹ کیفے مارٹن پلیس میں واقع ہے جو سڈنی کا ایک مصروف تجارتی علاقہ ہے جہاں دور دور سے لوگ بشمول سیاح خریداری کے لئے آتے ہیں۔ بندوق بردار کا نام ہارون مونس بتایا گیا ہے نے کچھ یرغمالیوں کو مجبور کیا تھا کہ وہ سیاہ رنگ کا اسلامی بیانر تھامیں۔ بی بی سی کے مطابق ہارون نے 1996 ء میں آسٹریلیا میں پناہ حاصل کی تھی جسے مختلف الزامات کا سامنا تھا اور جو ضمانت پر رہا تھا ۔ فارنسک افسران نے کیفے میں داخل ہوکر شواہد اکٹھا کئے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ دو یرغمالی اور ہارون کس طرح ہلاک ہوگئے ۔ زینہوا خبررساں ایجنسی کے مطابق دیگر چھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یرغمالی ڈرامے کے آخری لمحات میں کس نوعیت کے سنسنی خیز واقعات رونما ہوئے ، یہ معلوم کرنے کیلئے فارنسک افسران کے لئے تحقیقات ذرا مشکل ثابت ہوسکتی ہے ۔ اس پورے ڈرامہ میں 17 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا جس نے نہ صرف سڈنی شہر بلکہ پورے ملک پر سکتہ طاری کردیا تھا اور بالآخر پولیس نے منگل کو صبح کی اولین ساعت میں کیفے پر ہلّہ بول دیا تھا ۔ اس ڈرامہ کے آخری سنسنی خیز لمحات میں 38 سالہ بیرسٹر کٹرینہ ڈاسن اور کیفے کا منیجر 34 سالہ ٹوری جانسن ہلاک ہوئے تھے جبکہ ہارون مونس کے بارے میں یہ رپورٹ ہے کہ اُسے پولیس نے ہلاک کیا ۔ فارنسک ٹیم نے اپنی تحقیقات شروع کردی ہیں جس کے بعد بہت جلد یہ معلوم ہوجائے گا کہ چاکلیٹ کیفے میں حقیقتاً کیا ہوا تھا ۔