سڈنی میں مہلوک یرغمالوں کی شناخت

5 مہلوکین میں کیفے منیجر، ایک وکیل اور 3 بچوں کی ماں بھی شامل
سڈنی ۔ 16ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) سڈنی کے ایک کیفیٹریا میں ممبئی طرز پر انجام دیئے گئے 17 گھنٹے طویل یرغمالی ڈرامے میں جن دو یرغمالیوں کو ہلاک کیا گیا اُن کی شناخت لینڈنٹ چاکلیٹ کیفے کے منیجر اور دیگر کی ایک وکیل کی حیثیت سے ہوئی ہے ۔ 38 سالہ وکیل کٹرینہ ڈاسن تین نوجوان بچوں کی ماں تھیں جو اس یرغمالی ڈرامہ کا شکار ہوگئی ۔ متوفیہ سیلیورن چیمبرس میں ایک بیرسٹر تھیں اور پال اسمتھ نامی ایک شخص سے اُن کی شادی ہوئی تھی جو مالیسنس میں پارٹنر ہے ۔ ڈاسن نے سڈنی یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی جہاں وہ ویمنس کالج میں ایک طالبہ کی حیثیت سے رہا کرتی تھیں۔ اُنھوں نے مالیسنس سے اپنی کلرک شپ کی تکمیل کی اور وہیں اُن کی اپنے شوہر سے ملاقات ہوئی تھی جبکہ لینڈنٹ چاکلیٹ کیفے کے منیجر 34 سالہ ٹوری جانسن بھی کل رونما ہوئے یرغمالی ڈرامہ میں اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔ متوفی اکٹوبر 2012 ء سے مذکورہ کیفے سے وابستہ تھے لیکن اس کے علاوہ وہ سڈنی کے اطراف و اکناف میں دیگر ریستورانوں اور پیشہ میزبانی سے بھی وابستہ تھے۔

آسٹریلیا کی سرکاری عمارت میں لاوارث پیاکٹ سے سنسنی
ملبورن ۔ 16ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) آسٹریلیا کے دارالخلافہ کینبرا میں ملک کے محکمہ اُمور خارجہ و تجارت میں موجود سینکڑوں اسٹاف کا عمارت سے انخلاء کروایا گیا کیونکہ وہاں ایک مشتبہ پیاکیٹ دستیاب ہوا تھا جس سے پورے محکمہ میں سنسنی پھیل گئی تھی ۔ کچھ لوگ جب کینٹن میں کافی نوش کرنے پہنچے تو انھوں نے مشتبہ پیاکٹ وہاں پایا ۔ کینٹن پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب واقع ہے ۔ کچھ لوگ لنچ ٹائم کے دوران کھانا کھانے کیلئے بھی وہاں پہنچ گئے اُس وقت تک پورے علاقہ میں سنسنی پھیل چکی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد پورے علاقہ کی ناکہ بندی کردی گئی ہے اور لوگوں کو عمارت سے باہر نکالا جارہا ہے ۔ میڈیا بھی اس بات کی توثیق کی کہ عمارت کا انخلاء کیا جارہا ہے ۔ اُس عمارت میں ایک چائلڈ کیر سنٹر بھی ہے جہاں سے فوری طورپر بچوں کو بھی باہر نکالا گیا جو وہاں علاج کیلئے آئے تھے ۔