سپریم کورٹ کے تبصرہ سے کانگریسی موقف کی توثیق کا ادعا

نئی دہلی 22 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) قائد اپوزیشن کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کے تبصرہ سے پارٹی کے موقف کی توثیق ہونے کا ادعا کرتے ہوئے کانگریس نے آج الزام عائد کیاکہ لوک سبھا میں کانگریس کو قائد اپوزیشن کا عہدہ دینے سے انکار کا اسپیکر کا فیصلہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی کے جانبدارانہ ایجنڈہ سے متاثر ہوکر کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کا تبصرہ درحقیقت کانگریس اور یو پی اے کے موقف کی توثیق ہے۔ اسپیکر کا فیصلہ نہ صرف قانون کو مکمل طور پر نظرانداز کرتا ہے بلکہ واضح طور پر بی جے پی زیرقیادت حکومت کے جانبدارانہ ایجنڈہ سے متاثر ہے اور اِسی وجہ سے اِس تنازعہ کو مختلف رنگ دیا جارہا ہے۔ کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے سپریم کورٹ کی جانب سے قائد اپوزیشن کے قواعد کی تاویل کرنے سے اتفاق کے فوری بعد کہاکہ لوک پال اور قائد اپوزیشن برائے لوک سبھا کا تقرر سلیکشن کمیٹی کی جانب سے کیا جانا چاہئے۔ کانگریس نے اِس عہدہ کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے کہاکہ چیف جسٹس آر ایم لودھا کی زیرقیادت سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے کہا ہے کہ قائد اپوزیشن ایوان میں حکومت سے مختلف نمائندہ کی آواز پیش کرتا ہے اور بنچ نے مرکز سے خواہش کی ہے کہ دو ہفتے کے اندر اپنا موقف واضح کرے۔ بنچ نے کہا ہے کہ قانون سازی ’’سرد خانہ‘‘ میں نہیں رکھی جاسکتی۔ عدالت نے قائد اپوزیشن کے مسئلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوک پال کا قانون بھی نہ صرف اِس کے مماثل ہے بلکہ اس کا وجود اور دیگر داخلی قانون سازیاں بھی اِسی کے مماثل ہے۔ کانگریس لوک سبھا میں 44 نشستوں کے ساتھ دوسری سب سے بڑی پارٹی ہے اور اِس نے قائد اپوزیشن کے عہدہ کا طاقتور ادعا پیش کیا ہے لیکن برسر اقتدار بی جے پی نے اِس کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس کے پاس درکار 10 فیصد نشستیں نہیں ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اِسے دعویٰ کرنے کے لئے 55 نشستوں کی ضرورت ہے۔ حکومت پر قائد اپوزیشن کے موقف سے کانگریس کو محروم کردینے کا الزام عائد کرتے ہوئے آنند شرما نے کہاکہ جب کانگریس نے اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن سے اِس سلسلہ میں نمائندگی کی تو اسپیکر لوک سبھا نے اِس سلسلہ میں غور کرنے کا تیقن دیا تھا۔ یہ اُمید رکھی گئی تھی کہ وہ ایک غیر جانبدارانہ اور منصفانہ موقف اختیار کریں گی لیکن اسپیکر نے اٹارنی جنرل کی مخالفت پر انحصار کرتے ہوئے کانگریس کو اِس عہدہ سے محروم کردیا۔ حالانکہ اٹارنی جنرل کی رائے کاغذ کے ایک پرزے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ درحقیقت اسپیکر حکومت کے جانبدارانہ موقف سے متاثر ہیں۔