آر ٹی سی کے خاتون بس کنڈکٹرس کیلئے بیت الخلاؤں کی عدم سہولت: لبنیٰ ثروت
حیدرآباد۔5نومبر(سیاست نیوز) ملک میں سوچھ بھارت ‘ ریاست میں سوچھ تلنگانہ اور شہر میں سوچھ حیدرآباد کیلئے مقامی ‘ ریاستی اور مرکزی حکومت کی جانب سے مہم تو چلائی جا رہی ہے لیکن عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں عدم توجہی کے سبب صورتحال میں کوئی تبدیلی آتی نظر نہیں آرہی۔حکومتوں کی جانب سے جب تک بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو ممکن نہیں بنایاجاتااس وقت تک صفائی کو ممکن بنانے کے اقدامات کو یقینی قرار نہیں دیا جاسکتا۔شہر حیدرآباد میں عوام کیلئے بیت الخلاء کے متعلق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اعلانات کئے جاتے ہیں لیکن سرکاری عملہ خود اس سہولت سے محروم ہے۔تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ذمہ داروںاور جی ایچ ایم سی عہدیداروں کی جانب سے متعدد مرتبہ تیقنات کے باوجود آج بھی شہر حیدرآباد میں چلائی جانے والی بسوں میں خدمات انجام دے رہی خاتون کنڈکٹرس کیلئے مخصوص بیت الخلاء کی سہولت موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔محترمہ لبنی ثروت اس سلسلہ میں متعدد مرتبہ نمائندگی کرچکی ہیں کہ شہر حیدرآباد میں چلائی جانے والی بسوں کی خاتون کنڈکٹرس کیلئے خصوصی بیت الخلاء کی سہولت کی عدم موجودگی سے کتنے مسائل پیدا ہو رہے ہیں لیکن اس کے باوجود محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن اور محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور اب خود خاتون کنڈاکٹرس اس مسئلہ کو پیش کر رہی ہیں لیکن اس کے باوجود عہدیداروں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔شہر میں چلائی جانے والی 3800 بسوں میں1675خاتون کنڈکٹرس خدمات انجام دے رہی ہیں جو یومیہ 8گھنٹے خدمات انجام دیتی ہیں ۔سابق میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے ٹی ایس آر ٹی سی عہدیداروں سے مذاکرات کے ذریعہ 39 ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں خواتین کیلئے مخصوص بیت الخلاء کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی لیکن 6ماہ کا عرصہ گذر جانے کے باوجود بھی اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی گرین ٹوائلیٹ کے اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا جاسکا ہے۔