سوچھ حیدرآباد مہم ، سیاست کی جانب سے تاریخی معظم جاہی مارکٹ کی صفائی

تاریخی عمارت کی گنبدوں کی آہک پاشی اور گھڑیالوں کی درستگی ایڈیٹر سیاست کا پیشکش
حیدرآباد ۔ 18 ۔ مئی : ( نمائندہ خصوصی ) : تاریخی شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں آج کل صاف صفائی کا کام زوروں پر چل رہا ہے ۔ چیف منسٹر ، ڈپٹی چیف منسٹر ، ریاستی وزراء ، ارکان اسمبلی و عوامی نمائندے سڑکوں ، گلیوں ، دفاتر ، میدانوں وغیرہ کی صفائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں لیکن ان لوگوں نے شہر کے تاریخی آثار کو یکسر فراموش کردیا ہے ۔ تاہم سیاست نے 80 سالہ قدیم اور فن تعمیر کی شاہکار معظم جاہی مارکٹ میں صفائی کا نظم کرتے ہوئے حکومت اور سرکاری اداروں کے علاوہ تاریخی آثار کے تحفظ میں مصروف تنظیموں کو تاریخی عمارتوں پر بھی توجہ مرکوز کرنے کا سبق دیا ہے ۔ روزنامہ سیاست کی ایک ٹیم نے جنرل مینجر جناب میر شجاعت علی کی قیادت میں معظم جاہی مارکٹ کے چھت کی مکمل صفائی کی ۔ اس ٹیم میں آفیسٹ مینجر سیاست جناب شیخ محی الدین ، جناب ایم ایم بیگ ، جناب زاہد فاروقی مینجر دکن ریڈیو ، مسرس فہیم انصاری ، محمد بشیر ، ایم اے ذیشان ، شیخ نظام الدین لئیق ، مرلی ، شیخ احمد ، اظہر ، محمد جعفر ، فیروز ، سمیر ، شہباز ، پروین اور سنتوش شامل تھے ۔ سیاست کی اس ٹیم نے دیکھا کہ 1.77 ایکڑ اراضی پر پھیلی اور مکمل گرانائٹ سے تعمیر کردہ اس منفرد مارکٹ میں اور اس کی چھت پر جا بجا کچرے کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں ۔ شراب کی ٹوٹی پھوٹی بوتلیں ، بکھرے ہوئے ہیں ، جابجا خودرو پودے اور درخت اُگ آئے ہیں ۔ اس عمارت کی حالت زار دیکھ کر ریاستی محکمہ آثار قدیمہ ، تاریخی آثار کی حفاظت میں مصروف ہونے کا دعویٰ کرنے والی نام نہاد تنظیموں اور جی ایچ ایم سی وغیرہ کی غفلت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ 1935 میں سٹی امپرومنٹ بورڈ کی جانب سے تعمیر کردہ معظم جاہی مارکٹ کی زبوں حالی سے واقف ہونے پر ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ ادارہ سیاست معظم جاہی مارکٹ کے کلاک ٹاور اور اس کی دیگر گنبدوں کی آہک پاشی کرانے کے علاوہ ادارہ سیاست معظم جاہی مارکٹ کلاک ٹاور کی گھڑیوں کے موجودہ ڈائیلس کو برقرار رکھتے ہوئے اسے درست کرانے کا بھی پیشکش کرتاہے ۔ واضح رہے کہ 1935 میں مکمل طورپر گرانائٹ سے تعمیر کردہ اپنی طرز کی اس منفرد عمارت کو جو 120 ملگیات پر مشتمل ہے حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں بہادر کے دوسرے فرزند معظم جاہ بہادر سے موسوم کیا گیا تھا ۔ معظم جاہی مارکٹ کی خوبصورت طرز تعمیر کو دیکھ کر بیرونی سیاح حیران رہ جاتے ہیں لیکن ہمارے سرکاری اداروں کو اس کی صفائی کی کوئی فکر لاحق نہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سوچھ حیدرآباد پر 1000 کروڑ روپئے خرچ کرنے اور حیدرآباد میں غریبوں کے لیے پہلے مرحلہ کے تحت دو لاکھ مکانات کی تعمیر کا وعدہ کرنے والے چیف منسٹر شہر کی تاریخی عمارتوں کی صفائی کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے لیے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جی ایچ ایم سی کے اعلیٰ حکام کو 2000 ایکڑ اراضی حاصل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔۔