سونے پر ویاٹ کو 5 فیصد کردینے حکومت تلنگانہ کا منصوبہ

بجٹ میںاعلان کا امکان ۔ بوجھ عوام کی جیب پر ہی عائد ہوگا تاجروں پر نہیں
حیدرآباد ۔ 6 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : حکومت تلنگانہ کی جانب سے سونے پر ویاٹ میں اضافہ سے سونے کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں ۔ حکومت کی جانب سے مجوزہ بجٹ 2015-16 میں سونے پر ویاٹ میں اضافہ کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے ۔ فی الحال سونے پر حکومت ایک فیصد ویاٹ وصول کررہی ہے ۔ جس میں اضافہ کرکے 5 فیصد کرنے کا منصوبہ ہے ۔ ریاستی وزیر ٹی سرینواس یادو نے سونے پر ویاٹ میں اضافہ کے منصوبہ پر کہا کہ حکومت اس منصوبہ پر غور کررہی اور اس کی وجہ ریاست کی آمدنی میں اضافہ کے نشانہ کو پورا کرنا ہے ۔ ویاٹ کا نفاد اور اس سے ہونے والی آمدنی ریاست کی ہوتی ہے اور اس میں اضافہ یا تخفیف کا فیصلہ ریاستی حکومت کرتی ہے ۔ اگر تلنگانہ میں سونے کے زیورات پر ویاٹ میں اضافہ کیا جاتا ہے تو مجموعی طور پر سونے کی قیمت میں 5 فیصد تک کا اضافہ ہوجائے گا اور دکاندار اس اضافہ کو صارفین سے وصول کرکے حکومت کو ادا کرے گا ۔ ویاٹ میں اضافہ کے اثرات تاجرین پر نہیں بلکہ عوام پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے ۔ حکومت کی جانب سے سونے پر ویاٹ میں اضافہ سے تاجرین کو بالواسطہ طور پر گاہکوں سے محروم ہونا پڑے گا ۔ سونا ایسی دھات ہے جس کی خریدی کیلئے لوگ عام طور پر باضابطہ منصوبہ بندی کرتے ہیں ۔ جب حکومت ویاٹ میں اضافہ کرے تو شادی بیاہ کے علاوہ دیگر تقاریب کیلئے سونے کے خریداروں کا رخ پڑوسی ریاستوں کی سمت ہوجائے گا چونکہ تلنگانہ کی تینوں پڑوسی ریاستوں میں سونے پر ویاٹ 1% ہی ہے ۔ حکومت کی سونے کے زیورات کی خریدی پر ویاٹ میں اضافہ کی تجویز بین ریاستی ٹیکس چوری کرنے والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کے علاوہ دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کا بھی سبب بن سکتی ہے اسی لیے حکومت تلنگانہ کو چاہئے کہ وہ اس تجویز کے منفی اثرات پر بھی غور کرے چونکہ حکومت کی جانب سے فی الحال صرف ریاست کے خزانے میں اضافہ کیلئے مثبت اثرات کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ گاہک اگر پڑوسی ریاستوں کا رخ کرتے ہیں تو فروخت میں بھی گراوٹ ریکارڈ کی جاسکتی ہے جو کہ سرکاری خزانے پر بھی بوجھ بھی ثابت ہوسکتی ہے ۔