سونیا گاندھی پر چندرابابو کی تنقید کیخلاف انتباہ

حیدرآباد 16 فبروری (سیاست نیوز) چندرابابو نائیڈو زبان پر لگام دیں بصورت دیگر اُن کی زبان ببندی کی جائے گی۔ صدر تلگودیشم سیاسی طور پر کانگریس کی پیداوار ہیں، اِس بات کو ذہن نشین رکھیں۔ مسز سونیا گاندھی کے خلاف بیان بازی سے قبل وہ اپنے ماضی کا جائزہ لیں۔ رکن قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران اِن خیالات کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ کانگریس نے ہی چندرابابو نائیڈو کو سیاسی زندگی دی تھی اور وزارت کے عہدہ تک پہنچایا تبھی اُنھیں آنجہانی این ٹی راما راؤ نے اپنا داماد بنایا۔ چندرابابو نائیڈو دھوکہ دہی کی ایک لمبی تاریخ رکھتے ہیں اور وہ اپنے خسر کو ذہنی اذیت دیتے ہوئے قتل کرنے کے مرتکب بھی ہیں۔ چندرابابو نائیڈو نے گاندھی خاندان پر جس طرح سے الزامات عائد کئے ہیں وہ بالکلیہ طور پر ناقابل قبول ہیں۔ اُنھوں نے گاندھی خاندان کو ملک کے لئے قربانیاں دینے والا خاندان قرار دیتے ہوئے کہاکہ مسز گاندھی نے دو مرتبہ وزیراعظم کے عہدہ کی قربانی دی ہے۔ رکن کونسل نے مسٹر نائیڈو سے استفسار کیاکہ تین مرتبہ تلنگانہ کی تائید میں مکتوب دینے کے بعد وہ کیوں منحرف ہورہے ہیں۔ کانگریس نے تمام اُمور کی تکمیل کے بعد علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ جناب محمد علی شبیر نے چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این کرن کمار ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ چیف منسٹر اور سیما آندھرا کے وزراء آخری وقت بھی تلنگانہ کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ اُنھوں نے چیف منسٹر کے استعفے کے ارادہ کو محض دکھاوا قرار دیتے ہوئے کہاکہ کرن کمار ریڈی عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ تلنگانہ کی جائیدادوں کو لوٹتے ہوئے دولت بٹورنے میں مصروف چیف منسٹر کو چاہئے کہ اگر وہ کانگریس کی پالیسیوں اور فیصلوں سے اتفاق نہیں رکھتے تو وہ پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلیں۔

اُنھوں نے چیف منسٹر کے استعفے کو ’’شیر آیا‘‘ کی کہانی قرار دیتے ہوئے کہاکہ چیف منسٹر کا یہی طرز عمل رہا تو کانگریس خود اُنھیں برطرف کردے گی۔ جناب محمد علی شبیر نے نریندر مودی سے استفسار کیاکہ کیوں وہ تلنگانہ کے متعلق اپنی پارٹی کے موقف کو فراموش کررہے ہیں۔ سشما سوراج اور پارٹی کے دیگر قائدین نے تشکیل تلنگانہ کے جو اعلانات کئے تھے اُس سے انحراف کی کوشش کررہے ہیں۔ نریندر مودی کو گرگٹ قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ وزیراعظم بننے کا خواب دیکھتے ہوئے رنگ بدل رہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے اے پی این جی اوز قائد اشوک بابو کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ اشوک بابو اپنی اوقات میں رہیں اور بے تکے بیانات جاری کرنے سے گریز کریں۔ اُنھوں نے اشوک بابو کو مشورہ دیا کہ اگر وہ سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں تو ملازمت ترک کرتے ہوئے انتخابی مقابلہ میں آئیں۔ اُنھوں نے سیما آندھرا قائدین پر الزام عائد کیاکہ سیما آندھرا قائدین نفرت پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔