سونا ، جائیداد اور تیل کی قیمتوں میں گراوٹ سرمایہ کاروں کیلئے تشویشناک

غریب عوام کو فائدہ مند، سرمایہ داروں کو مایوسی ممکن، اشیائے ضروریہ پر بھی اثرات
حیدرآباد 13 نومبر (سیاست نیوز) سونا، جائیداد اور تیل یہ ایسی چیزیں ہیں جن کی قیمتوں میں گراوٹ سرمایہ کاروں کیلئے تشویش کا باعث ہوتی ہیں۔ لیکن حالیہ عرصہ میں اِن تینوں چیزوں میں آنے والی تیز تر گراوٹ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سونے جیسی دھات جسے محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا تھا وہ آئندہ کئی برسوں تک مختصر مدتی سرمایہ کاری کیلئے بہتر نہیں رہے گی اور نہ ہی جائیدادوں کی حالت میں کوئی بہتری آنے کی توقع کی جارہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ چند برسوں تک تیل کی قیمت بھی بتدریج گرتی رہے گی لیکن اِس کے راست فوائد غریب عوام کو حاصل ہوں گے مگر جو طبقہ سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے اُس طبقہ کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے اثرات دوسری اشیائے ضروریہ پر بھی مرتب ہونے کے امکانات ہیں۔ عالمی سطح پر کروڈ آئیل کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو گزشتہ 10 برسوں کے دوران کروڈ آئیل کی قیمت میں زبردست اضافہ دیکھا گیا لیکن حالیہ دنوں میں کروڈ آئیل کی قیمت میں آرہی گراوٹ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تخفیف ہورہی ہے۔ مارچ 2009 ء میں آخری مرتبہ کروڈ آئیل فی بیارل 45 ڈالر ریکارڈ کیا گیا اور اُس کے بعد سے قیمتیں بڑھتے ہوئے 2012 ء میں 120 ڈالر فی بیارل تک پہونچ چکی تھی لیکن جاریہ سال کے تیسرے سہ ماہی میں یہ قیمتیں 78 اور 80 ڈالر فی بیارل ہوچکی ہیں۔ جس کے عوام پر مثبت اثرات نظر آرہے ہیں۔ اِسی طرح سونے کی قیمت کا 2009 ء سے جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئے گی کہ 50 ہزار روپئے فی اونس سونا 2010 ء میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اُس کے بعد سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور اکٹوبر 2012 ء میں سونے کی قیمت ایک لاکھ فی اونس تک پہونچ چکی تھی لیکن ایک مرتبہ پھر اِس قیمتی دھات کی قیمت میں گراوٹ دیکھی گئی جو اگسٹ 2013 ء میں ریکارڈ کی گئی لیکن اب جو گراوٹ نومبر 2014 ء میں ریکارڈ کی جارہی ہے وہ 68 ہزار فی اونس تک پہونچ چکی ہے۔ اگسٹ 2013 ء میں جو گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی وہ 72 تا 75 ہزار روپئے فی اونس ریکارڈ کی گئی تھی لیکن جاریہ ماہ جو گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے وہ جاریہ مالی سال کے تیسرے سہ ماہی کی سب سے بڑی گراوٹ تصور کی جارہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اِس گراوٹ کا سلسلہ مزید جاری رہے گا اور کچھ برسوں تک سونے جیسی قیمتی دھات کی یہی صورتحال رہے گی۔ حیدرآباد میں جائیداد کی قیمت میں اضافہ یا گراوٹ کے ریکارڈ کے متعلق جو ڈاٹا پیش کیا جارہا ہے حیدرآباد میں تلنگانہ اور آندھرا کے درمیان جاری رسہ کشی کے باعث فوری طور پر جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ نہیں کیا جارہا ہے لیکن اگر تلنگانہ تحریک کے دوران حیدرآباد کی جائیدادوں کی قیمتوں میں جو گراوٹ آئی تھی اُس کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ حالت کافی بہتر تصور کی جارہی ہے ۔ جو فلیٹس سپٹمبر 2013 ء میں حیدرآباد میں 66.63 لاکھ تک فروخت ہورہے تھے اُن کے فلیٹس کی قیمت میں 12.83 فیصد کا سپٹمبر 2014 ء میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اُن کی قیمتیں 75 لاکھ 18 ہزار تک پہونچ چکی ہیں۔ لیکن جائیداد میں کی جانے والی مختصر مدتی سرمایہ کاری بھی مجموعی اعتبار سے فائدہ بخش ثابت ہونے کی توقع نہیں ہے۔