سوماجی گوڑہ میں مسجد کو شہید کرنے بلڈر اور اراضی مالک کی سازش

تحفظ مسجد کے لیے آگے آنے والوںکو پولیس کا انتباہ ، پولیس پر الزامات کی اے سی پی کی تردید
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : جس اراضی کی حفاظت کل تک مسجد کررہی تھی اب بلڈر کی ایماء اور سازش پر اسی مسجد کو راستہ سے ہٹانے کی کوشش جاری ہے ۔ تاہم مسجد کے قیام سے مسجد کو آباد رکھنے والے افراد اب اس مسجد کے تحفظ کے لیے کمربستہ ہوگئے ہیں ۔ شہر کے مرکزی علاقہ سوماجی گوڑہ میں یہ واقعہ جاری ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اراضی کے مالک نے قبل ازیں اراضی کے تحفظ کے لیے اور اپنی خواہش کے مطابق اراضی پر مسجد تعمیر کروائی اور مقامی مسلمانوں نے اللہ کے اس گھر کو آباد کردیا ۔ مسجد کی تعمیر کے بعد اراضی کے مالک کے حق میں بہترین فیصلے آئے اور اسے عدالتوں میں غیر متوقع کامیابی حاصل ہوئی ۔ جس کے بعد اراضی پر مالکانہ حقوق حاصل ہوگئے ۔ اور اس نے ایک معروف بلڈر کے ساتھ معاہدہ کرلیا اور عرصہ کے دوران اس عارضی پر بڑی عالیشان عمارتیں بھی تعمیر ہوگئیں ۔ تاہم ان عالیشان عمارتوں کی شان میں اضافہ کے لیے اور اپنے اغراض کو پورا کرنے کے لیے بلڈر سازش رچ رہا ہے ۔ جس پر مالک اراضی مسجد کو راستہ سے ہٹانا چاہتا ہے ۔ اور ایک دوسرے مقام پر مسجد کو تعمیر کرواتے ہوئے اس مسجد کو شہید کرتے ہوئے اس مسجد کی اراضی کو اپنے اغراض کے لیے استعمال میں لینا چاہتا ہے ۔ تاہم مقامی مسلمانوں نے مسجد کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد کا آغاز کردیا ہے اور اس بات کا فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں بلڈر اور مالک اراضی کی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے مسجد کا تحفظ کریں گے ۔ اس خصوص میں پنجہ گٹہ پولیس میں شکایت بھی درج کروائی گئی تاہم پولیس اپنی روایت پر قائم ہے ۔ پولیس پر الزام ہے کہ پولیس بلڈر اور مالک اراضی کے اشاروں پر مبینہ طور پر کام کررہی ہے اور مسجد کے تحفظ میں آگئے آنے والے افراد کو مبینہ طور پر خوف زدہ کرنے کے پولیس پر سنگین الزامات پائے جاتے ہیں اور پولیس پر الزام ہے کہ پولیس کے ایک اعلی عہدیدار راست طور پر مقامی مسلمانوں کو مسجد کے تحفظ کی جدوجہد سے دستبردار ہونے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں اسسٹنٹ کمشنر پولیس پنجہ گٹہ مسٹر وینکٹیشورلو نے پولیس پر عائد الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ پولیس امن کی برقراری کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی بلکہ ایکطرفہ کارروائی نہیں کرے گی ۔۔