جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال اور ہجومی تشدد روکنے ارکان خاندان کامطالبہ
حیدرآباد ۔ 15؍ جولائی ( سیاست نیوز)بیدرکے ہجومی تشدد میںہلاک ہونے والے محمداعظم کے افراد خاندان نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ و ہ سوشیل میڈیا کے ذریعہ افواہ پھیلانے والے افراد اور ہجومی تشدد کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کرے ۔ مقتول کے بھائی محمد اکرم نے سیاست نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ جدید ٹیکنالوجی دور میں سوشیل میڈیا کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں انسانی جان جا رہی ہے ۔ محمداکرم نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اپنے پڑوسی ریاست کرناٹک سے اس معاملہ کی تفصیلی تحقیقات کرنے پر زور دیں تاکہ ہجومی تشدد کے واقعہ کی تفصیلی تحقیقات کی جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی محمد اعظم سوشیل میڈیا کی افواہوں کا نشانہ بنیں ہیں جبکہ وہ خود گوگل کمپنی سافٹ ویر انجنیئر کی حیثیت سے ملازمت کر رہے تھے ۔ محمد اعظم کے حلیہ سے یہ کبھی بھی ظاہر نہیں ہوسکتا ہے کہ وہ بچوں کے اغوا کرنے والے ٹولی رکن ہیں لیکن سوشیل میڈیا پر پھیلائے گئے غلط اطلاعات پرانہیں نشانہ بنایا گیا ہے ۔ محبوب کے بھائی نے کہا کہ حکومت واٹس اپ کے ذریعہ پھیلائی جا رہے افواہوں کی روک تھام اور اورہجومی تشدد میں ملوث والے افراد کے خلاف ایسی سخت کارروائی کرے تاکہ یہ پیام عام ہوجائے ۔ محمد اکرم نے اپنے بیان میں کہاکہ ان کے بھائی کی اچانک موت سے ان کا خاندان انتہائی متاثر ہوا ہے جبکہ ان کے والد محمد عثمان جو ریلوے ملازم بتائے گئے ہیں پر سکتہ طاری ہوا ہے ۔ محمد اعظم شادی کچھ عرصہ قبل ہوئی تھی اور انہیں ایک لڑکا بھی ہے ۔ بالا پور ایرہ کنٹہ کے ساکن محمد اعظم کی ہجومی تشدد میں ہلاکت کا حکومت سخت نوٹ لیتے ہوئے اس پر فی الفور کارروائی کرے ۔