سوشیل میڈیا استعمال کرنے والوں پر پولیس کا عتاب

حکومت سچ کا آئینہ دکھانے والوں سے خائف، شہریوں کو ہراساں کرنے محکمہ پولیس کا بیجا استعمال
حیدرآباد۔19جون(سیاست نیوز) سیاسی پارٹیوں کی جانب سے سوشیل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے اقتدار پر پہونچنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ کامیابی مرکزی حکمراں پارٹی کو ملی۔ اب اسی سوشیل میڈیا کے ذریعہ عوام بالخصوص سماجی کارکنوں، صحافیوں، تنظیموں کی جانب سے حکومت کی خرابیوں، سماجی برائیوں پر قابو پانے میں قانونی اداروں کی ناکامی کا کچا چٹھا پیش کیا جاتا ہے تو ان سچ بولنے والوں اور اظہار خیال کرنے والوں کو دبوچ کر ہراساں کیا جارہا ہے۔ بیجا مقدمات دائر کرکے جیل بھیجتے ہوئے خوف کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ آنے والے انتخابات 2019 ء تک سماجی سطح پر حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے اور پولیس فورس کا بیجا استعمال کررہی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں اظہار خیال کی آزادی کو کچلنے کا سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب ایک بس کنڈکٹر نے سوشیل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹ فیس بُک پر چیف منسٹر تلنگانہ کے خلاف اظہار خیال کرتے ہوئے ویڈیو اپ لوڈ کیا تھا۔ حکومت نے آر ٹی سی بس کنڈکٹر ڈی سنجیو جو نظام آباد ۔ 1 ڈپو میں ملازمت کررہا تھا کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے نومبر 2017 ء کو اُسے معطل کردیا۔

اسی طرح کنڈکٹر کے ویڈیو کو سوشیل میڈیا پر عام کرنے والے دو نوجوانوں پی بھاسکر اور راجیش شکو ورنگل پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ یہ سلسلہ شہر حیدرآباد میں بھی عام ہوتا جارہا ہے جس کے دو تازہ ترین واقعات پرانا شہر میں منظر عام پر آئے ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعہ میں حالیہ دنوں مجلس بچاؤ تحریک کے کارکن آصف اقبال کو بی جے پی رکن اسمبلی حلقہ گوشہ محل ٹی راجہ سنگھ کے خلاف سوشیل میڈیا پر بیان جاری کرنے پر پولیس نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے اُسے تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے گرفتار کرلیا جبکہ اسی بی جے پی رکن اسمبلی کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر اور بیانات جو سوشیل میڈیا پر اب بھی موجود ہیں، ازخود کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ محض سماجی کارکنوں اور دیگر افراد کی جانب سے اُس کے خلاف شکایت درج کرنے پر ہی مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ اسی طرح پولیس نے سوشیل میڈیا پر حقائق افشاں کرنے والے صحافیوں کے خلاف بھی شکنجہ کس رہی ہے جس کی تازہ ترین مثال صحافی محمد سبحان کی ہے جسے پولیس نے ایک فرضی مقدمے میں ماخوذ کرتے ہوئے جیل بھیج دیا تھا لیکن عدالت نے حقائق کا فی الفور پتہ چلنے پر اِس صحافی کی ضمانت منظور کرلی۔ لاء اینڈ آرڈر کی برقراری اور امن و امان کو خطرہ لاحق ہونے کا عذر پیش کرتے ہوئے پولیس نے یہ کارروائی انجام دی تھی۔ مقامی جماعت کی جانب سے اپنے حریفوں کو پولیس کے ذریعہ نشانہ بنانا، اُنھیں خوف زدہ کرنا، فرضی مقدمات میں ماخوذ کرنا اور نوجوانوں کی روڈی شیٹس کھلانا پرانا حربہ ہے۔ عام انتخابات سے قبل سوشل میڈیا پر متحرک مخالفین کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ملک بھر میں سوشل میڈیا کے ذریعہ حقائق کو پیش کرنے کی کوشش کرنے والوں اور بے باکانہ تبصرہ کرنے والے مبصرین کو نشانہ بناتے ہوئے برسراقتدار سیاستداں اپنے حریفوں کو کمزور کرنے کی کوشش میں مصروف ہو چکے ہیں۔ ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد میں سوشل میڈیا کے ذریعہ عوامی شعور بیدار کرنے اور سیاستدانوں کی حقیقت کو آشکار کرنے والوں کو جیل پہنچاتے ہوئے انہیں اپنی رائے پیش کرنے سے روکنے کے علاوہ عام شہریوں کو خوفزدہ کیا جانے لگا ہے۔