سوامی گوڑ کے ریمارکس دستور کے مغائر : کے نارائنا

حیدرآباد ۔ 13 اپریل ۔ ( این ایس ایس ) سی پی آئی قومی کونسل کے رکن ڈاکٹر کے نارائنا نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے چیرمین سوامی گوڑ کی طرف سے ایوان میں کئے گئے نازیبا ریمارکس پر ان سے فی الفور معذرت خواہی کا اظہار کیااور کہا کہ سوامی گوڑ اس قسم کے ریمارکس کرنے کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں ۔ مسٹر نارائنا نے اپنے ایک صحافتی بیان میں چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ سے سوال کیاکہ آیا وہ ( کے سی آر ) اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے کہیں ان ریمارکس کی تائید تو نہیں کررہے ہیں ؟ ۔ اگر ایسا نہیں تو چیف منسٹر کو چاہئے کہ وہ صدرنشین کونسل کے ریمارکس کی مذمت کریں ورنہ ایسے نازیبا ریمارکس سیکولر نظام کو تباہ وبرباد کردیں گے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سوامی گوڑ نے تنگ نظری و فرقہ پرستی پر مبنی ریمارک میں کہا تھا کہ ہندوؤں کو چار بچے پیدا کرنا چاہئے اور مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنا چاہئے ۔ ڈاکٹر نارائنا نے مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے سے متعلق شیوسینا کے ریمارکس پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ شیوسینا قائدین اور سوامی گوڑ نے دستور پر حلف لیا ہے لیکن بعض ایسے ریمارکس کیا کرتے ہیں جو دستور کے خلاف ہیں۔