سوئس بینکوں میں پڑے 300 کروڑ ہندوستانی روپیوں کا کوئی دعویدار نہیں

زیورچ ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) یہ بات ان لوگوں کیلئے یقینی طور پر حیرت انگیز ہوگی جو مودی حکومت کے ان دعوؤں کو گذشتہ چار سال سے سن رہے ہیں کہ بیرونی ممالک کی بینکوں میں پڑے کالے دھن کو واپس لایا جائے گا جبکہ حقیقت یہ ہیکہ گذشتہ 64 سالوں سے ہندوستان کے 300 کروڑ روپئے سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں جن کا کوئی دعویدار نہیں اور کہا جارہا ہیکہ یہ رقم ہندوستان کے چھ لوگوں نے اپنے سوئس بینک کھاتوں میں جمع کروائی ہے۔ سوئس بینکس بھی گذشتہ تین سالوں سے اپنے خفیہ اکاؤنٹس کو برسرعام کرتے ہوئے اکاؤنٹ ہولڈر کے ناموں کا بھی افشاء کررہی ہیں جن میں چھ ہندوستانی بھی شامل ہیں۔ بینکس اکاؤنٹ ہولڈرس کا پتہ لگانے میں ناکام ہیں اور دوسری طرف کوئی بھی بندہ کھاتہ بردار ہونے کا دعویٰ لے کر سامنے نہیں آیا۔ 3500 اکاؤنٹس کے منجملہ چھ ہندوستانیوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جو سوئس بینکوں میں کھاتہ دار ہیں جن میں پیئرواچک اور برنیٹ روزمیری جن کا تعلق ’’بامبے‘‘ (اب ممبئی) سے بتایا گیا ہے۔ بہادر چندرا سنگھ (دہرہ دون)، ڈاکٹر موہن لال (پیرس)، سچاہ یوگیش، پربھو داس (لندن) جبکہ ایک اور ہندوستانی کشور لال کی رہائشی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ ان تمام اکاؤنٹس کو ڈسمبر 2015ء میں ایک ’’عوامی فہرست‘‘ میں شامل کیا گیا تھا اور ڈسمبر 2020ء تک یہ اسی فہرست میں شامل رہیں گے تاوقتیکہ کھاتوں سے متعلق کوئی ٹھوس اور حقیقی دعویدار سامنے آئے۔