کانگریس سے فاصلہ برقرار رکھنے سی پی ایم کانفرنس میں فیصلہ
وشاکھا پٹنم ۔ 18 ۔ اپریل : ( پی ٹی آئی ) : سی پی ایم نے آج کہا ہے کہ وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں اور ہندوتوا طاقتو کے فرقہ پرست ایجنڈہ کے خلاف فی الفور جدوجہد شروع کردی جائے لیکن اس مہم میں کانگریس کو شامل کرنے سے انکار کردیا گیا ۔ سی پی ایم کی قومی کانفرنس میں منظورہ ایک سیاسی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کا فی الفور یہ فریضہ ہے کہ بی جے پی اور اس کی پالیسیوں کے خلاف اعلان جنگ کردیا جائے جب کہ مودی حکومت کی پالیسیوں اور ہندوتوا نواز سماجی اور تعلیمی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کے لیے ایک ٹھوس اور مضبوط اپوزیشن کی ضرورت ہے ۔ اگرچیکہ پارٹی کا اصل نشانہ بی جے پی ہے لیکن وہ کانگریس کی مخالفت پر بھی کار بند رہے گی ۔ جس نے نئی فراخدلانہ پالیسیوں کی شروعات کی تھی اور یو پی اے حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں اور کرپشن نے بی جے پی کو اقتدار تک رسائی کے لیے راہ ہموار کی ہے ۔ قرار داد میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ پارٹی نے حکمراں یو پی اے کی پہلی میعاد کے دوران باہر سے تائید کی گئی تھی ۔ لیکن اب کانگریس کے ساتھ کوئی مفاہمت یا انتخابی اتحاد قائم نہیں کیا جائے گا ۔ ہر 3 سال میں ایک مرتبہ منعقد ہونے والی کانفرنس کی روئیداد سے واقف کرواتے ہوئے پولیٹ بیورو ممبر ایس رامچندرن پلائی نے کہا کہ جاریہ سال کے اواخر میں پارٹی کی پلیمنری اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں مختلف محاذوں پر سی پی ایم کی حکمت عملی اور خامیوں کی اصلاح کا جائزہ لیا جائے گا ۔ 3 سالہ میعاد کی تکمیل کے بعد عہدہ سے سبکدوش ہونے والے سی پی ایم جنرل سکریٹری پرکاش کرت نے قرار داد پر مباحث کا جواب دیا جس کے بعد یہ سیاسی قرار داد منظور کرلی گئی۔