چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو کے دورہ سنگاپور سے واپسی کے بعد بیان، کے سی آر پر بالواسطہ تنقید
حیدرآباد 16 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرابابو نائیڈو نے اپنے سہ روزہ دورہ سنگاپور کی شاندار کامیابی کا ادعا کرتے ہوئے آندھراپردیش کی نئی راجدھانی کو سنگاپور کے خطوط پر ترقی دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور دورہ کی کامیابی کیلئے تعاون کرنے والوں سے اظہار تشکر کیا اور سنگاپور سے اپنی حیدرآباد واپسی کے بعد آج اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر آندھراپردیش نے کہاکہ وہ سنگاپور کے طرز پر ہی آندھراپردیش کی نئی راجدھانی تعمیر کریں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ ایشیائی ممالک گزشتہ 50 سال کے دوران زبردست ترقی حاصل کی اور اس ترقی کیلئے بہترین حکمرانی، شاندار منصوبہ بندی اور دیگر اقدامات ہی اہم وجہ بتائے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ہم وافر وسائل فراہم رہنے کے باوجود خاطر خواہ ترقی حاصل نہیں کرسکے۔ چیف منسٹر نے پانی کے استعمال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر ہم پانی کا بہتر استعمال اور استفادہ کریں تو اس کے بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ پولاورم پراجکٹ کے پانی کو کرشنا ڈیلٹا کو دیتے ہوئے کرشنا کا پانی رائلسیما کیلئے دیا جاسکتا ہے۔ چیف منسٹر نے پولاورم پراجکٹ پر اُمید ظاہر کی کہ اگر 600 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے تو پولاورم پراجکٹ کے تمام کنالس کو مکمل کیا جاسکتا ہے۔ آندھراپردیش کی نئی راجدھانی کی تعمیر میں ہر ایک سے برابر کا حصہ دار بننے کی اپیل کی۔ مسٹر چندرابابو نائیڈو نے اُمید کا اظہار کیاکہ سال 2022 ء تک ملک بھر میں آندھراپردیش کو پہلا مقام حاصل ہوگا۔ نائیڈو نے کہاکہ سنگاپور کے تمام وزراء آندھراپردیش ریاست سے اپنی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ راجدھانی کی تعمیر کیلئے ماسٹر پلان مرتب کرنے سنگاپور وزراء سے خواہش کی گئی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آندھراپردیش میں پورٹس اور سنگاپور میں بندرگاہیں لاجسٹک ھب میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ وہ آندھراپردیش کو بھی لاجسٹک ھب کے طور پر تیار کریں گے۔ چندرابابو نائیڈو نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ وہ راجدھانی کی تعمیر میں تعمیری رول ادا کرنے کے بجائے کسانوں کو نت نئے انداز میں اُکسایا جارہا ہے۔ حصول اراضی کے لئے وہاں کے کسانوں کو فائدہ بخش بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ حصول اراضی اور اراضی کو اکٹھا کرنے میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔ چندرابابو نائیڈو نے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ کو بالواسطہ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ وہ آپسی خوشگوار تعلقات کے ذریعہ ہر دو تلگو ریاستوں کی ترقی کیلئے کوشاں ہیں لیکن وہ (تلنگانہ چیف منسٹر) نئے نئے مسائل پیدا کررہے ہیں۔ آپس میں مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعہ نظریاتی اختلافات کو دور کیا جاسکتا ہے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو عدلیہ کا راستہ اپنانے کی بھی تجویز پیش کی۔ انھوں نے کہاکہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی ہر روز صرف تلگودیشم پارٹی کو ہی اپنا نشانہ بنارہی ہے اور یہ طرز صرف سیاسی حسد کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ نائیڈو نے مزید کہاکہ ہیریٹیج کے نام پر مجھ کو شخصی طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انھوں نے حکومت تلنگانہ کے طرز عمل پر اپنی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پہلے میڈیا کو نشانہ اور پھر تلگودیشم پارٹی کو نشانہ بنارہے ہیں اور اس طرح یکطرفہ اقدامات سے تلنگانہ کو ہی نقصان ہوگا۔