بیجنگ۔ 20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مسلم اکثریتی علاقہ ژنجیانگ میں عسکریت پسندی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے چین نے آج 15 مقامی عہدیداروں کو نظم و ضبط کے قواعد شکنی پر سزا دی ہے۔ اس میں مذہب کی پابندی بھی شامل ہے جسے برسراقتدار کمیونسٹ پارٹی نے ممنوعہ قرار دیا ہے۔ کاشغر کی مقامی حکومت نے گزشتہ ماہ بیسیوں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پندرہ سرکاری عہدیداروں کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے پر جس میں مذہب کی پابندی بھی شامل ہے، سزا دی ہے۔ سرکاری روزنامہ ’’گلوبل ٹائمس‘‘ کی خبر کے بموجب 15 عہدیداروں کی سزا کا اعلان کل حکومت نے ایک اجلاس میں کیا۔ 800 سے زیادہ مقامی عہدیدار پرائمری اور ہائی اسکول کے ہیڈماسٹرس نے اجلاس میں شرکت کی۔ ژنجیانگ ایک کروڑ 10 لاکھ ترکی نژاد ایغور مسلمانوں کا وطن ہے۔ ہان نوآباد کاروں کے خلاف ایغور مسلمان مسلسل احتجاج کررہے ہیں جس کی وجہ سے اس علاقہ میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ 15 میں سے ایک عہدیدار کو ڈسپلین شکنی کے الزام میں برطرف بھی کردیا گیا۔ روزنامہ نے سرکاری خبر رساں ادارہ ژنہوا کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس عہدیدار کا رویہ خراب تھا جس کا منفی اثر مرتب ہورہا تھا۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے ڈسپلین میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ تمام ارکان کو اتھیلیٹس ہونا چاہئے۔
جولائی میں ماہِ رمضان میں حکومت ِ مقامی کی بعض ویب سائیٹ پر ژنجیانگ میں تمام سی پی سی اور لیگ ارکان، سیول ملازمین اور طلبہ کو ہدایت جاری کی گئی تھی کہ وہ روزے نہ رکھیں اور مذہبی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیں۔ 15 عہدیداروں میں سے ایک کو ماضی میں انتباہ بھی دیا گیا تھا کہ غیرقانونی طور پر مذہبی ارکان عملہ کے تقرر پر اس کیخلاف کارروائی کی جائے گی جبکہ ایک اور عہدیدار کو مقامی عوامی صیانتی ڈیویژن سے، سیاسی اعتبار سے غیردرست ہونے اور آڈیو اور ویڈیو مواد کی ترویج اور اشاعت پر جس میں تعصب پر مبنی مواد شامل تھا، خارج کردیا گیا ہے۔دیگر 11 عہدیداروں کو یا تو سزا دی گئی ہے یا انتباہ یا ڈسپلین شکنی کے الزام میں علیحدہ کردیا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے غیرقانونی مواد شائع کیا تھا اور سرکاری پالیسیوں کو غلط طور پر نافذ کیا تھا۔ چین کا الزام ہے کہ حال ہی میں ژنجیانگ اور ملک کے دیگر علاقوں میں دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار مشرقی ترکستان اسلامی تحریک ہے جو پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور افغانستان کی سرحد سے متصل علاقہ میں سرگرم ہے۔