ویب سائٹ پر سابق وزیر اقلیتی بہبود کا نام اور فون نمبر سے کئی فون کالس کا تانتا ، حج کمیٹی سے شکایت
حیدرآباد۔ 19 جنوری (سیاست نیوز) سنٹرل حج کمیٹی جو سارے ملک کے عازمین حج کے انتظامات کی نگران کار ہے، اس کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے نزدیک ابھی تک آندھرا پردیش اور تلنگانہ علیحدہ ریاستوں کی حیثیت شمار میں نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اقلیتی بہبود کے طور پر جناب محمد احمد اللہ اور صدرنشین حج کمیٹی کی حیثیت سے سید خلیل الدین احمد ابھی بھی برقرار ہیں۔ حج کمیٹی کی ویب سائیٹ میں تبدیلی نہیں کی گئی جس کے باعث سابق وزیر اقلیتی بہبود جناب احمد اللہ کو روزانہ کئی ٹیلیفون کالس موصول ہورہے ہیں جس میں حج فارمس اور دیگر تفصیلات کے بارے میں معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔ جناب احمد اللہ نے آج حج کمیٹی کے ذمہ داروں سے شکایت کی کہ سنٹرل حج کمیٹی کی ویب سائیٹ پر ان کے نام اور فون نمبر کی موجودگی کے باعث انہیں روزانہ 100 سے زائد فون کالس وصول کرنے پڑ رہے ہیں، اور وہ اس موقف میں نہیں کہ عازمین کی رہنمائی کرسکیں۔ اس کے علاوہ صدرنشین حج کمیٹی کے طور پر جناب سید خلیل الدین احمد کا نام اور موبائل نمبر ویب سائیٹ پر موجود ہے جبکہ تلنگانہ میں فی الوقت کوئی حج کمیٹی نہیں ۔ سابقہ کمیٹی کی میعاد ختم ہوئے کافی عرصہ گذر چکا ہے۔ افسوس اس بات یہ ہے کہ سنٹرل حج کمیٹی نے اپنی ویب سائیٹ کو اَپ ڈیڈ نہیں کیا۔ ویب سائیٹ پر حج کمیٹی کے ایگزیکٹیو آفیسر کی حیثیت سے پروفیسر ایس اے شکور کا نام موجود ہے جبکہ وہ اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ریاست کی تقسیم کے بعد سنٹرل حج کمیٹی نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے لئے علیحدہ قرعہ اندازی کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ کے عازمین کے کور نمبرس کا آغاز TS سے ہوگا جبکہ آندھرا پردیش کے عازمین کے کور نمبرس پر AP درج ہوگا۔ ریاست کی تقسیم کے سبب حج کوٹہ میں اضافہ کے کوئی امکانات نظر نہیں آتے، لہذا آندھرا پردیش کے مقابلے تلنگانہ کے عازمین حج کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔