نئی دہلی 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام ) سنسر بورڈ کے 19 ارکان نے حکومت کے تحکمانہ اور تحقیر آمیز رویہ کے خلاف بطور احتجاج استعفی پیش کردیا ہے ارکان کا کہنا ہے کہ بورڈ کی صدر نشین لیلا سیمسن نے بحالت مجبوری استعفی دیا ہے کیونکہ اس کے سواء اور کوئی چارہ کار نہیں تھا جبکہ وزارت اطلاعات و نشریات کی وزیر نگرانی سنسر بورڈ کی صدر نشین سیمسن نے متنازعہ فلم میسنجر آف گاڈ کی نمائش کی اجازت کے خلاف اپنا استعفی ہفتہ کے دن پیش کردیا تھا اس فلم میں ڈیرہ سچا سودہ کے سربراہ گرمیت رام رحیم نے اداکاری کی ہے ۔ بورڈ کے 9 ارکان ارون دھتی ناگ، ایرا بھاسکر لورا پربھو ،پنکج شرما ،راجیو سنہہ،شیکھر بابو کنچیرلہ ،شاہ جی کرونا،سبھراگپتا اور ٹی جی تیاگراجن نے آج مشترکہ طور پر اپنا استعفی نامہ حکومت کو روانہ کردیاہے انہو ںنے بتایا کہ بورڈ میں شمولیت کے بعد روز اول سے ہی اصلاحات لانے کی کوشش کی گئی ہیں لیکن پیشرو حکومت اور موجودہ حکومت کے ایک بھی وزیر نے خاطر خواہ تعاون نہیں کیا ۔ اس کے بر خلاف ایسے عہدیداروں کو معطل کردیا گیا جنہیں فلموں کے بارے میں تجربہ اور جانکاری نہیں ہے دوسری طرف علاقائی دفاتر میں کئی ایک عہدے مخلوعہ ہیں جن پر باقاعدہ تقررات عمل میں نہیں لائے گئے جبکہ مرکزی حکومت نے بورڈ کیلئے مطلوبہ فنڈس بھی جاری نہیں کئے ان حالات میں بورڈ میں کام کرنا مشکل ہوگیا تھا ۔