سمکھیا آندھرا پارٹی اسمبلی اور پارلیمنٹ انتخابی مقابلہ کے لیے تیار

حیدرآباد ۔19 ۔ مارچ (سیاست نیوز) سابق چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کی جئے سمکھیا آندھرا پارٹی مجالس مقامی کے انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔ تاہم انہوں نے آئندہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں کا آغاز کرلیا ہے۔ کرن کمار ریڈی مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے کانگریس ، تلگو دیشم اور دیگر پارٹیوں کے قائدین سے ربط پیدا کرتے ہوئے متحدہ آندھرا کے بیانر تلے قائم کی گئی پارٹی میں شمولیت کی ترغیب دے رہے ہیں۔

پارٹی ذرائع نے بتایا کہ کرن کمار ریڈی کی اولین ترجیح طلباء قائدین اور سرکاری ملازمین کی تنظیمیں ہیں، جنہوں نے ریاست کی تقسیم کے خلاف سیما آندھرا کے 13 اضلاع میں طویل ایجی ٹیشن کیا تھا۔ کانگریس پارٹی سے برطرف کئے گئے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر کرن کمار ریڈی عام انتخابات کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ مجالس مقامی کے نتائج کے بعد مختلف جماعتوں کے موقف کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی حکمت عملی کو قطعیت دیں گے ۔ ذرائع کے مطابق وہ انتخابی مفاہمت کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ سیما آندھرا میں کانگریس پارٹی کو شکست دینا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ کانگریس سے وابستہ اور ان سے قریب سمجھے جانے والے بیشتر قائدین اگرچہ تلگو دیشم میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔

تاہم کرن کمار ریڈی کو یقین ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل کئی اہم قائدین ان کی پارٹی کا رخ کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ پارٹی کے حق میں عوام میں شعور بیداری اور تشہیر کیلئے مختلف میڈیا ایجنسیز کی خدمات حاصل کریں گے۔ تلنگانہ کے بعض قائدین سے انہوں نے ربط قائم کیا جو حکومت کے دوران ان سے کافی قریب تھے۔ تاہم ان قائدین نے متحدہ آندھرا کے بیانر پر قائم کردہ پارٹی میں شمولیت سے انکار کیا۔ پارٹی ذرائع نے کہا کہ کرن کمار ریڈی مجالس مقامی کے انتخابات پر توجہ دینے کے بجائے سپریم کورٹ میں ریاست کی تقسیم کے خلاف دائر کئے گئے مقدمہ پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ وہ نئی دہلی کے کئی سرکردہ ماہرین قانون و دستور سے ربط میں ہیں تاکہ سپریم کورٹ کے دستوری بنچ کی تشکیل کے بعد سماعت کی صورت میں ریاست کی تقسیم کے طریقہ کار کو چیلنج کیا جاسکے۔ قانونی لڑائی کے سلسلہ میں کرن کمار ریڈی نے سابق ارکان پارلیمنٹ ایل راج گوپال اور یو ارون کمار کو ذمہ داری دی ہے۔