ممبئی ۔ 9 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) محمد علی شیخ جو ملک کا سب سے بڑا تیل سنڈیکیٹ ممبئی کے ساحل کے قریب چلایا کرتا تھا اب دوبارہ خبروں میں آگیا ہے۔ ممبئی پولیس کے بموجب اس نے پرکشش سرخ صندل کی تجارت شروع کردی ہے جس سے اسے بھاری نفع حاصل ہوتا ہے۔ حال ہی میں شیخ عرف سمندر کا بادشاہ کو اس کی تجارت کے دوران گرفتار کرلیا گیا۔ شیخ کا نام سرخ صندل کے اسمگلر کی حیثیت سے اس وقت منظرعام پر آیا جب ڈائرکٹریٹ آف ریونیو انٹلیجنس اور کوسٹ گارڈس نے مشترکہ طور پر 22 ٹن سرخ صندل مالیتی کروڑوں روپئے گجرات سے دبئی جانے والے بحری جہاز سے ضبط کرلیا۔ یہ واقعہ 4 ڈسمبر کو ساحل کے قریب پیش آیا۔ بحری جہاز حادثاتی طور پر ممبئی کے ساحل پر پہنچ گیا تھا کیونکہ وہ راستہ بھٹک گیا تھا۔ اس پر 4 افراد سوار تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ شیخ نے مبینہ طور پر سرخ صندل بحری جہاز پر بار کیا تھا۔ سرخ صندل کی اسمگلنگ اس لئے کی جاتی ہیکہ مشرق وسطیٰ میں اس کی زبردست مانگ ہے۔ حکومت نے اس کی تجارت پر امتناع عائد کر رکھا ہے۔
شیخ کے گروہ کے ارکان خلیج جانے والے بحری جہازوں سے خام تیل چرایا کرتے تھے۔ اے سی سی کرائم برانچ پرفل بھوسلے نے کہا کہ انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہ شخص سرخ صندل کی اسمگلنگ میں بھی ملوث ہے۔ اس بات کے زبردست ثبوت موجود ہیں۔ اب پولیس سرخ صندل کی سابقہ اسمگلنگ کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ شیخ 2009ء میں خبروں میں آیا۔ جب اس نے لوک سبھا انتخابات میں بی ایس پی کے ٹکٹ پر جنوبی ممبئی حلقہ سے کانگریس امیدوار ملند دیورا سے مقابلہ کیا تھا۔ اس نے صرف 50 ہزار ووٹوں کی وجہ سے ناکامی کا منہ دیکھا۔ انتخابات کی وجہ سے اس کا داخلہ مقامی سیاسی حلقوں میں ہوگیا۔ تاہم اس کے روابط مفرور گینگسٹر اور ممبئی حملوں کے ملزم داؤد ابراہیم سے ہونے کا انکشاف ہوا جبکہ اس کے بزنس پارٹنر چاند مدار کا ستمبر 2010ء میں قطل ہوگیا۔ پولیس نے اس قتل کی سازش کے الزام میں شیخ کو گرفتار کرلیا تاکہ تیل سنڈیکیٹ پر مکمل طور پر قابو پایا جاسکے۔