سمندری طوفان ہُد ہُد سے آندھرا‘ اڈیشہ میں تباہی‘6ہلاک

وشاکھاپٹنم / بھوبنیشور ۔12اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) طوفان ’’ہُدہُد‘‘ آج آندھراپردیش اور اڈیشہ کے ساحل سے ٹکرایا گیا جس کے نتیجہ میں ساحلی آندھرا میں زبردست بارش اور تقریباً 200 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے لگیں ۔ اس طوفان نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی جس میں 6 افراد ہلاک ہوگئے ۔ وشاکھاپٹنم سب سے زیادہ متاثر رہا ۔ آندھراپردیش کے چار اور اڈیشہ کے 9 اضلاع میں تقریباً 4 لاکھ سے زائد افراد کا پہلے ہی محفوظ مقام پر تخلیہ کرادیا گیا تھا ۔ یہ تمام ریلیف کیمپس میں ہیں اور انہیں پانی کی سطح کو ملحوظ رکھتے ہوئے زیادہ محفوظ مقام منتقل کیا جائے گا ۔ طوفان ’’ہُدہُد‘‘ آج رات کمزور پڑگیا اور ہواؤں کی شدت بھی 100 تا 110 کیلو میٹر فی گھنٹہ تک پہونچ گئی ۔ اس طرح اب یہ خطرناک طوفان سے صرف تیز آندھی میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ تیز ہواؤں کی وجہ سے وشاکھاپٹنم ، سریکا کولم ، وجیا نگرم اور مشرقی گوداوری میں عام زندگی درہم برہم رہی ۔ یہاں مواصلاتی نظام ابتر ہوگیا اور سڑکیں و ریل راستے بند کردیئے گئے ۔ بندرگاہی شہر وشاکھاپٹنم کل رات سے تاریکی میں ہے اور کئی مقامات پر مواصلاتی نظام مسدود ہے ۔ ابتدائی تجزیہ کے مطابق جملہ 6 ہلاکتیں ہوئیں ہیں جن میں آندھراپردیش میں 3 اور اڈیشہ میں 3 شامل ہیں ۔ یہاں ٹرانسپورٹ خدمات کے علاوہ پروازیں بھی متاثر رہیں ۔ ریلویز نے 58 ٹرینس منسوخ کردیں اور تقریباً 50 ٹرینوں کا راستہ تبدیل کردیا گیا ۔ آندھراپردیش کے چیف سکریٹری آئی وی آر کرشنا راؤ نے بتایا کہ ’’ہُدہُد‘‘ کے اثر سے 3 ہلاکتیں ہوئی ہیں ۔ وشاکھاپٹنم اور سریکاکولم اضلاع میں 2 افراد درخت گرنے اور ایک شخص باؤنڈری وال منہدم ہونے سے ہلاک ہوگیا ۔ اڈیشہ کے اسپیشل ریلیف کمشنر پی کے مہاپترانے بتایا کہ 3 افراد بشمول ایک کمسن لڑکی طوفان کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بڑی تنصیبات کو نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ مرکزی وزیر اشوک گجپتی راجو نے کہا کہ طوفان کا اثر انتہائی خطرناک رہا ۔

نیشنل کرائسیس مینجمنٹ کمیٹی کا آج رات کابینی سکریٹری اجیت سیٹھ کی زیرصدارت دوبارہ اجلاس منعقد ہوا جس میں طوفان ’’ہُدہُد‘‘ کی وجہ سے ہوئی تباہی کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ جیسے ہی طوفان کا اثر کم ہوگا نقصان کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا ۔ اس دوران این ڈی آر ایف کی مزید دو ٹیموں کو اڈیشہ روانہ کیا جارہاہے ۔ طوفان اڈیشہ کے جنوب میں داخلی علاقوں اور چھتیس گڑھ سے گذر گیا ہے ۔آندھراپردیش کے تین ساحلی اضلاع میں موسلادھار بارش سے عام زندگی بری طرح مفلوج رہی ۔ آندھراپردیش کے حکام نے چار اضلاع سریکاکلم‘ وجئے نگرم ‘ وشاکھاپٹنم اور مشرقی گوداوری سے 90013 افراد کا تخلیہ کردیا ہے ۔ اڈیشہ کے ساحلی اضلاع سے 68ہزار افراد کا تخلیہ کردیا گیا ۔ دہلی میں انڈین میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے ڈائرکٹر جنرل لکشمن سنگھ نے کہا کہ پہاڑی علاقوں کی وجہ سے یہ طوفان آئندہ 6گھنٹوں کے اندر کمزور پڑجائے گا اور 12گھنٹوں میں پوری طرح ختم ہوجائے گا ۔ تیز ہواؤں اور جھکڑ کے باعث چھتیس گڑھ ‘ بہار ‘ مشرقی مدھیہ پردیش اور مشرقی یوپی میں شدید بارش ہورہی ہے ۔ وزیراعظم کے دفتر نے طوفان کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے اور اس پر نظر رکھی ہے ۔

وزیراعظم نریندر مودی نے چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو کو تیقن دیا ہے کہ وہ طوفان کے متاثرہ علاقوں میں راحت کاری اقدامات کیلئے ہر ممکنہ مدد کریں گے ۔ مرکزی کابینی وزیر اجیت کمار سیٹھ نے کہا کہ وزیراعظم نے طوفان کی تباہی پر تشویش ظاہر کی ہے اور چوکسی کی ہدایت دی ہے ۔ وزیراعظم نے کل رات طوفان کی صورتحال کا جائزہ لیا اور آندھراپردیش و اڈیشہ کے چیف سکریٹریز سے بھی ملاقات کی ہے ۔ اجیت کمار سیٹھ نے مقامی عوام سے کہا ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں ۔ تیز ہواؤں کا دوسرا مرحلہ بھی شروع ہوسکتا ہے ۔طوفان کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریاستی حکومت کے علاوہ مرکزی ایجنسیاں بھی اپنا کام انجام دے رہی ہیں ۔ فوج ‘ بحریہ اور دیگر ایجنسیوں کو پہلے ہی تیار رکھا گیا ہے ۔ دونوں ریاستوں کی حکومتوں نے طوفان سے نمٹنے کی تیاری کرلی تھی اور وقتاً فوقتاً صورتحال کا جائزہ لے رہی تھی ‘

این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو روانہ کیا گیا ہے ۔ بھونیشور میں چیف منسٹر نوین پٹنائک نے کہا کہ سمندری طوفان کے اثرات ریاست کے مختلف اضلاع میں دیکھے گئے ہیں خاص کر ضلع گنجم ‘ گجپتی ‘ کرّاپُٹ ‘ پوری‘کلاہنڈی اور کیندرا پاڑا میں طوفان کا زیادہ اثر دیکھا گیا ہے ۔ 68ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے ۔ متاثرہ افراد کیلئے 604شیلٹر ہومس قائم کئے گئے ہیں ۔ طوفان کے اثر سے تمام ساحلی علاقوں اور جنوب خطہ میں صبح کی اولین ساعتوں سے ہی شدید بارش ہورہی ہے ۔ محکمہ موسمیات نے پیشن قیاسی کی ہے کہ دیگر 8جنوبی اضلاع میں بھی طوفان کا اثر ہوگا ۔ وشاکھاپٹنم اور سریکاکلم میںفوجی جوان نگرانی کررہے ہیں ‘ انہیں کشتیوں کے ساتھ تیار رکھا گیا ہے ۔ فضائیہ نے بھی اپنے تربیت یافتہ کمانڈوز کو تمام ریلیف آپریشنس کیلئے روانہ کیا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے کہا ہے کہ وہ دو ریاستوں کے چیف منسٹرس سے رابطہ قائم رکھیں اور صورتحال کا جائزہ لیتے رہیں۔ وزیراعظم کے جائزہ اجلاس میں کابینی سکریٹری کے علاوہ پرنسپال سکریٹری برائے وزیراعظم اور معتمد داخلہ ‘ معتمد دفاع اور دیگر سینئر عہدیدار بھی موجود تھے ۔