ممبئی، 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سلمان خان کو بڑی راحت رسانی میں ممبئی ہائی کورٹ نے 2002ء کے ’ہِٹ اینڈ رَن‘ کیس میں مجرم قرار پانے والے بالی ووڈ اسٹار کو سماعتی عدالت کی سنائی گئی پانچ سالہ سزائے قید پر آج حکم التواء جاری کردیا۔ جسٹس ابھئے تھپسے نے سلمان کو ہدایت دی کہ تحت کی عدالت میں فوری خودسپردگی کے ساتھ ایک تازہ مچلکہ مالیتی 30 ہزار روپئے داخل کیا جائے۔ عبوری ضمانت جو اداکار کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنانے کے چند گھنٹے بعد منظور ہوئی، آج ختم ہوگئی تھی۔ 49 سالہ سلمان کی اپیل پر ہائی کورٹ نے کہا کہ وہ مقدمہ کی سماعت 15 جون کو منعقد کرے گی اور فی الحال اداکار کی ضمانت پر رہائی منظور کی جاتی ہے ۔ جج نے کہا کہ یہ کوئی ایسا مقدمہ نہیں کہ جس میں سلمان خان کو اپیل کی سماعت تک قید رکھا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقدمات میں لوگ پوری قید کی میعاد گزار چکے ہیں۔ بعدازاں انہیں ہائی کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ قواعد کے اعتبار سے جب بھی کوئی اپیل قبول کی جاتی ہے اور سزائے قید 7 سال سے کم ہو تو اسے معطل کردیا جاتا ہے ۔ استغاثہ اس طریقے سے انحراف کا خواہاں کیوں ہے ؟