سلامتی کونسل ہندوستان کی مستقل نشست کو نارڈک تائید

لندن میں مودی کا بسویشور کو خراج عقیدت، ناروے میں سرمایہ کاری ، وزیراعظم کا بیرونی دورہ

اسٹاکہوم ۔ 18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) شمالی نصف کرہ ارض کے پانچ ممالک نے ہندوستان کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کی بھرپور تائید کرتے ہوئے اسے عالمی ادارے کی سرفہرست شعبہ میں مستقل نشست کا ایک ’’طاقتور امیدوار‘‘ قرار دیا۔ کل رات دیر گئے ہند ۔ نارڈک چوٹی کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس پر پانچ شمالی نصف کرہ ارض کے ممالک سویڈن، ڈنمارک، آئس لینڈ، ناروے اور فن لینڈ کے دستخط ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات اور ہندوستان کو مستقل نشست فراہم کرنے کی بھرپور تائید کی۔ وزیراعظم مودی اور وزیراعظم ڈنمارک نے پائیدار ترقی کے پرعزم نفاذ کیلئے معاہدہ کی تائید کی۔ شمالی کرہ ارض کے ممالک اور ہندوستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات اور توسیع کی ضرورت مستقل اور غیرمستقل ارکان کو زیادہ جوابدہ، مؤثر اور ذمہ دار کے علاوہ 21 ویں صدی عیسوی کے حقائق کا احساس کرنے والے ملک بننے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے برطانیہ کے دورہ کے موقع پر لندن میں بسویشور کے مجسمہ پر پھول مالا چڑھا کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ بسویشور 12 ویں صدی عیسوی کے لنگایت فلسفی اور سماجی مصلح تھے۔ ان کی مجسمہ دریائے ٹیمز کے کنارے ایلبرٹ گارڈنس میں نصب ہے۔ انہوں نے وزیراعظم ناورے سے ملاقات کے دوران ناروے کے عوام کو دعوت دی کہ ہندوستان میں نئے شعبوں میں سرمایہ کاری کی لامحدود گنجائش محدود ہے اور وہ ان شعبوں میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم ناروے ارنا سلولبرجن نے غیرملکی سرمایہ کاری کیلئے ہندوستان کی کھلی پالیسی کی ستائش کی۔ مودی نے ناروے کے ریاستی پنشن فنڈ کو عالمی بنانے اور ہندوستان کے نئے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شمالی نصف کرہ ارض کے ممالک نے اتفاق کیا کہ ہندوستان سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کیلئے ایک مستحکم امیدوار ہے۔ ان ممالک کے وزرائے اعظم نے مودی سے ملاقات کے دوران عالمی ادارہ نے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔