ریاض ۔23 مئی ۔(سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے ایک صوبہ میں دولت اسلامیہ کے خودکش بم بردار حملہ کو انتشارپسندانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس حملہ کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ نماز جمعہ کے دوران حملہ میں 21 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ خودکش بم بردار نے صوبہ قطیف میں القدیر موضع کی مسجد امام علیؓ ابن طالب مسجد میں نماز جمعہ کے دوران مصلیوں میں موجود ایک خودکش بم بردار نے اپنے کپڑوں میں چھپاکر لائے بم دھماکو شئے کو دھماکہ سے اُڑادیا ۔ وزارت داخلہ سعودی عرب نے ایک بیان میں کہا کہ اس دھماکہ میں خودکش بم بردار ہلاک اور متعدد مصلی جاں بحق ہوے ۔ اس حملہ کی شدت سے کئی دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں ۔ ایک مصلی کمل جعفر حسن نے دھماکہ کے مقام سے فون پر بتایا کہ ہم نے نماز جمعہ کی پہلی رکعت پوری کرلی تھی کہ دھماکہ کی آواز سنی اور دیکھتے ہی دیکھتے افراتفری پھیل گئی ۔ لوگوں کو خون میں لت پت دیکھا گیا ۔ مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ نے حملہ کی شدید مذمت کی اور اس حملہ کو انتشارپسندانہ کارروائی قرار دیا ۔ انھوں نے کہا کہ یہ حملہ سعودی قوم میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش ہے ۔
انھوں نے کہاکہ ہم کو یہ سمجھنا ضروری ہیکہ ہمارے ملک کے دشمن سعودی عرب کو کرپٹ بناکر اسے پھوٹ کا شکار کردیں۔ صدر ہایا شیخ عبدالرحمن بن عبداللہ صنعاد نے کہاکہ اس دہشت گرد جرم کی شدید مذمت کی جاتی ہے ۔ یہ لوگ ملک کو پھوٹ سے دوچار کرنے میں ناکام ہوں گے ۔ حملہ کی مخالفت کرتے ہوئے سپریم جوڈیشیل کونسل کے جنرل سکریٹریٹ نے کہاکہ شہریوں کیلئے یہ اہم ہے کہ وہ ملک کے دشمنوں کا متحدہ مقابلہ کریں۔ کونسل آف سینئر اسکالرس کے جنرل سکریٹری شیخ فہد المجید نے کہا کہ یہ ایک گھناؤنا جرم ہے ، دہشت گردوں نے اب ثابت کردیا ہے کہ ان کے پاس بیرونی ایجنڈہ ہے ۔ المجید نے مزید کہاکہ سعودی عرب اس واقعہ کے بعد مزید طاقتور بن کر اُبھرے گا اور دہشت گردوں کو شکست دے گاجو ملک کی سلامتی کو کمزور کرنے کے خواہاں ہیں ۔ سعودی عرب کی سلامتی ، خوشحالی اور استحکام کو نقصان پہونچانے کی کوشش میں ناکام ہوں گے ۔
حملہ کے بعد ایمبولینس اور سیول ڈیفنس کا عملہ مقام پر پہونچ گیا اور زخمیوں کو قاطف کے سنٹرل اور آرمکو ہاسپٹل میں شریک کیا گیا ۔ ہلت ڈائرکٹوریٹ کے ایک بیان کے مطابق پولیس فورس مقام پر پہونچ کر ثبوت اکٹھا کرلئے ہیں ۔ ہولناک خونریز کارروائی کے خلاف شدید احتجاج ہورہا ہے اور سعودی بلاگرس نے سوشیل میڈیا پر حملہ کی شدید مذمت کی ہے ۔ سوشیل میڈیا پر تبصرہ کرنے والوں نے لکھا ہے کہ اس طرح کے حملے پوری طرح متحد سعودی معاشرہ میں گروہ انتشار پیدا کریں گے ۔ سکیورٹی حکام نے اس دہشت گرد جرم میں ملوث تمام افراد کی تلاش شروع کردی ہے ۔ دولت اسلامیہ نے اس گھناؤنے جرم کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔ اس دعویٰ کو بم بردار کی تصویر کے ساتھ ٹوئیٹر پر پیش کیا گیا ہے ۔ اس دہشت گرد گروپ نے صنعاء میں ایک حوثی مسجد پر بم دھماکہ کیا تھا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔