جدہ ۔ 2 ڈسمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی قونصل جنرل بی ایس مبارک نے ’’میک ان انڈیا‘‘ کی پوشیدہ طاقت کو اُجاگر کرتے ہوئے سلطنت سعودی عرب کے بزنس قائدین کو اس کے مقصد اور فوائد سے روشناس کرایا اور کہا کہ اس کا اہم مقصد باہمی تجارت میں اضافے کے ساتھ ساتھ دونوں دوست ممالک کے درمیان طاقتور تعلق کو بڑھاوا دینا ہے ۔ وہ جدہ دیوانیہ میں ایک تقریب سے مخاطب تھے ۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستان کی نئی حکومت میک ان انڈیا مساعی کو کافی ترجیح دے رہی ہے ۔ یہ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کو سرمایہ کاری کی پرکشش منزل کے طورپر پیش کرنے کا پروگرام ہے جسے وزیراعظم ہند نریندر مودی نے 25 سپٹمبر 2014 ء کو متعارف کراتے ہوئے دنیا بھر کے تجارتی گوشوں کو ہندوستان میں سرمایہ مشغول کرنے اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں شراکت داری کی دعوت دی ۔ قونصل جنرل نے بتایا کہ حکومت ہند کی جانب سے اس مہم میں دیگر کئی شعبوں کو بھی شامل کیا جارہا ہے جن میں آٹو موبائیلس ، ہوابازی ، بائیو ٹکنالوجی ، ڈیفنس مینوفیکچرنگ ، فوڈ پروسیسنگ ، آئی ٹی ، کانکنی ، تیل اور گیس ، فارماسیوٹیکلس ، بندرگاہیں ، ریلوے ، قابل تجدید توانائی ،
سیاحت وغیرہ ۔ سعودی عرب ہندوستان کیلئے چوتھا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جب کہ باہمی تجارت 2012-13 ء میں زائد از 43 بلین ڈالر رہی جو اپنے آپ میں دونوں ملکوں کے تجارتی رشتے کو آشکار کرتا ہے ۔ اس موقع پر قونصل کمرشل ایس آر ایچ فہمی نے بھی مخاطب کیا ۔ دیگر مقررین میں میر غضنفر علی ذکی ایکزیکٹیو سکریٹری سعودی انڈین بزنس نٹورک اور جنرل سکریٹری انڈین یوتھ ویلفیر اسوسی ایشن نے کہا کہ دونوں ملکوں کے دوستانہ تعلقات معاشی اور سماجی و ثقافتی روابط کے عکاس ہیں۔ ڈاکٹر احمد العطاس مشیر برائے صدر سعودی جیالوجیکل سروے ، صہیب مالیشو، الحسن ایم الشیبانی ، امجد شریف ، سید مجیدالحسن ، سلمان عزیز اور نورالدین (دونوں ایر انڈیا ) ، ایل رام نارائن ایئر چیف پیٹرن ، حسن بایزید اطہر وائس پیٹرن ، ایس پی سنگھ ، زبیر محمد، مزمل حسین ، سید باقر علی میڈیا سکریٹری آئی وائی ڈبلیو اے اور دیگر ممتاز سعودی و ہندوستانی بزنسمین بھی موجود تھے۔