لیک پولیس کا صلہ رحمی، شوہر کی کونسلنگ، انسپکٹر لیک پولیس سری دیوی کا شوہر اور بیوی کے ساتھ صلح و صفائی
حیدرآباد ۔8 مارچ (سیاست نیوز) سسرال میں ساس اور شوہر کی ہراسانی اور مائیکے میں معاشی تنگی دو وقت کی روٹی کیلئے محتاجی اپنا اور اپنے دو کمسن بچوں کا پیٹ پالنے سے پریشان ایک خاتون نے زندگی پر موت کو ترجیح دی۔ تاہم عین وقت پر لیک پولیس نے انتہائی اقدام کرنے والی خاتون غوثیہ بیگم بشمول اس کے دو کمسن بچوں کو بچا لیا۔ لیک پولیس نے غوثیہ اور ان کے بچوں کو پولیس اسٹیشن منتقل کیا اور اس کے شوہر شریف کو طلب کرتے ہوئے کونسلنگ کی۔ پولیس اسٹیشن میں پولیس نے غوثیہ اور شریف کے علاوہ ان کے بھوکے کمسن لڑکوں کو کھانا کھلایا اور دونوں میں صلاح رحمی کرواتے ہوئے انہیں روانہ کردیا۔ وجئے نگر خیرت آباد علاقہ کے ساکن محمد شریف اور غوثیہ کی شادی 10 سال قبل ہوئی اور ان کے دو لڑکے ہیں۔ شریف پیشہ سے پینٹر بتایا گیا ہے۔ انسپکٹر لیک پولیس محترمہ سری دیوی نے یہ بات بتائی۔ سسرال میں شوہر کی کم کمائی اور اکثر بے کاری سے رہنے اور ساس کی مبینہ ہراسانی سے غوثیہ پریشان تھی اور اکثر نشہ کی حالت میں مبینہ طور پر اس کا شوہر اس خاتون کے ساتھ مارپیٹ بھی کرتا تھا۔ تاہم اس خاتون کو اس ہراسانی کی کوئی پرواہ نہیں تھی بلکہ اس خاتون کو دو وقت کی روٹی بھی دشوار ہوگئی تھی اور اس کے بچے بھی کھانے کیلئے اکثر پریشان رہتے تھے جس سے تنگ آ کر غوثیہ نے 6 ماہ قبل اپنے مائیکے کا رخ کیا۔ مائیکے میں ضعیف والدہ بھی لڑکی کے سسرال سے مائیکے آجانے پر پریشان تھی اور مائیکے میں معاشی حالت اس قدر بہتر نہیں تھی کہ وہ غوثیہ کے علاوہ اس کے دو لڑکوں کی ضروریات کی تکمیل کرسکے۔ گذشتہ ہفتہ غوثیہ نے اپنے مائیکے کی حالت کو دیکھ کر شوہر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ علحدہ مکان کرایہ پر لیکر اس کا اور لڑکوں کا انتظام کریں۔ تاہم شوہر نے اپنی مالی مجبوری کو بتاتے ہوئے بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن غوثیہ نے اس کی بات نہیں مانی اور آج اپنے مائیکے سے دو لڑکوں کو ساتھ لیکر حسین ساگر کا رخ کیا اور این ٹی آر گارڈن کے قریب جہاں ایک مقام پر حسین ساگر جھیل سے جڑی ہوئی جالی ٹوٹ چکی ہے، اس جالی سے ماں اور بیٹے اندر داخل ہوگئے۔ اس وقت تک بھی بچوں کو نہیں معلوم تھا کہ ان کی والدہ آخر کیا کرنے والی ہے۔ غوثیہ کی اس جنوبی انتہائی اقدام کی انجام دہی سے عین قبل چوکس لیک پولیس نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا اور لیک پولیس اسٹیشن منتقل کیا۔ انسپکٹر نے غوثیہ کے شوہر شریف کو طلب کرتے ہوئے ان کی کونسلنگ کی اور مقدمہ کو غیر ضرری تصور کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کے تحت انہیں پولیس اسٹیشن میں کھانا کھلایا اور میاں بیوی میں صلح و صفائی کرتے ہوئے انہیں مکان روانہ کردیا ساتھ ہی انسپکٹر نے شریف کو ایک ماہ کی مہلت دی کہ وہ گھر کا انتظام کریں اور ساتھ ہی روزانہ سو روپئے بیوی بچوں کے اخراجات ادا کرنے کی ہدایت دی۔ بصورت دیگر سخت کارروائی کا شریف کو انتباہ دیا۔