سزائے موت کی بحالی پشاور المیہ کا حل نہیں : ایمنسٹی

لندن ۔ 18 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آج پشاور میں طالبان کے اسکول پر کئے گئے حملے اور درجنوں ہلاکتوں کے تناظر میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کو دہشت گردانہ واقعات سے نمٹنے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ سزائے موت پر امتناع کا جو فیصلہ حکومت نے پہلے کرلیا تھا اسی پر قائم و دائم رہنے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں سزائے موت کی سزاء پر عائد امتناع کو برخاست کرنے کا اعلان کیا ہے جو دراصل طالبان کو سخت سے سخت سزائیں دیتے ہوئے کیفرکردار تک پہنچانے کی جانب ایک مثبت پیشرفت ضرور ہے لیکن ایمنسٹی کے مطابق سزائے موت پر امتناع کی برخاستگی دہشت گردی کے خاتمہ کی وجہ نہیں بن سکتی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیاء پیسیفک ڈپٹی ڈائرکٹر ڈیوڈ گریفتھس نے یہ بات کہی۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منگل کے دن کئے گئے حملے یقینا انسانیت سوز ہیں اور اس میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزائیں دی جانی چاہئے لیکن سزائے موت کی برخاستگی

اس کا علاج نہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ وزیراعظم نواز شریف نے پشاور المیہ کے ایک روز بعد یہ اعلان کیا ہے۔ مسٹر گریفتھس نے کہا کہ اس دلسوز واقعہ کے بعد پاکستان غم و غصہ کے عالم میں ہے اور ایسا فیصلہ صادر کیا گیا ہے لیکن یہ فیصلہ مسئلہ کی گہرائی تک نہیں پہنچا سکتا اور نہ ہی اس سے شمال مغربی پاکستان کے شہریوں کا مؤثر تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ اب یہ حکومت کا فرض ہیکہ وہ اس جانب زائد توجہ دے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہیکہ وہ اندھادھند حملوں اور خصوصی طور پر شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں بشمول پشاور حملے کے خاطیوں کو تحقیقات کا سامنا کرنے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ان کے خلاف مقدمہ چلائے جانے پر زائد توجہ دی جائے لیکن یہ تمام اقدامات سزائے موت کو بحال کئے بغیر ہونے چاہئے۔ پاکستان میں فی الحال لاء اینڈ آرڈر کی جو صورتحال ہے اس میں سزائے موت کے ذریعہ بہتری پیدا نہیں کی جاسکتی۔ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث درجنوں افراد کو سزائے موت کا سامنا ہے۔