سری ناراینی نمونمو سیوا ٹرسٹ کی مثالی خدمات … لیکن ہم اپنا منصب بھول گئے

میٹرنٹی ہاسپٹل پیٹلہ برج میں یومیہ 300 تیمار داروں میں کھانے کی مفت تقسیم
حیدرآباد ۔ 3 ۔ مارچ : ( ابوایمل ) : جذبہ انسانیت اور جذبہ ہمدردی ہی انسانوں کو دیگر مخلوق سے ممتاز بناتی ہے ۔ بیماروں کی عیادت ، ان کی تیمار داری ، غریبوں کی مدد اور بھوکوں کے لیے کھانے کا انتظام ایسے نیک کام ہیں جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے خوش ہوتا ہے ۔ آج ہم آپ کو چند ایسے ہی نوجوانوں سے ملاتے ہیں جو ایک خانگی ٹرسٹ کے زیر اہتمام روزانہ 300 تیمار داروں کو دوپہر میں کھانا کھلاتے ہیں ۔ ان نوجوانوں کو اس بات سے کوئی واسطہ نہیں کہ کھانا حاصل کرنے والا کس مذہب ، کس رنگ و نسل اور ذات پات سے تعلق رکھتا ہے ۔ کیوں کہ ان کا ایقان ہے کہ درد و الم بیماریوں ، مصیبتوں اور پریشانیوں کا کوئی مذہب رنگ و نسل اور ذات پات نہیں ہوتی بلکہ انسان ان چیزوں سے متاثر ہوتے ہیں ۔ حالیہ عرصے میں سرکاری ہاسپٹل میں ناقص انتظامات ، گنجائش سے زائد مریض رجوع کئے جانے اور طبی آلات کی عدم موجودگی کے نتیجے میں مریضوں اور ان کے تیمار داروں کو کئی ایک مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ سرکاری زچگی خانہ پیٹلہ برج کے اسی حالت زار کا جائزہ لینے جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ مرد و خواتین کی ایک طویل قطار اور تین نوجوان ( ستیش ، سریکانت اور نریش ) لمبی قطار میں ٹہرے ہوئے لوگوں کو گرم گرم کھانا اور سالن تقسیم کررہے ہیں ۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ لوگ بلاناغہ پابندی سے ہر روز دوپہر میں زائد از 300 تیمار داروں میں کھانا تقسیم کرتے ہیں ۔ جب ہم نے ان سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق سری ناراینی نمونمو سیوا ٹرسٹ سے ہے ۔ اسی ٹرسٹ کے زیر اہتمام اس دواخانے میں آنے والے مریضوں کے تیمار داروں کو روزانہ کھانا فراہم کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کے تقریبا ہر ضلع انتہائی غریب اور متوسط طبقہ یہاں علاج کے لیے رجوع ہوتے ہیں ۔ تاہم ان کے لیے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ کھانے کا انتظام بھی ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے ۔ اس پہلو کو ذہن میں رکھتے ہوئے سری ناراینی نمونمو سیوا ٹرسٹ کی جانب سے روزانہ ان تیمار داروں کو دوپہر کا کھانا مفت فراہم کیا جاتا ہے ۔ جس میں گرما گرم چاول ، دال ، سبزی ، دہی اچار وغیرہ شامل ہوتا ہے ۔ مذکورہ ٹرسٹ کے اس فلاحی اقدامات کی وجہ سے یہاں آنے والے ہزاروں تیمار داروں اور مریضوں کو کافی سہولت ہورہی ہے اور لوگ ٹرسٹ اور ٹرسٹ کے ذمہ داروں کے حق میں دعا گو رہتے ہیں ۔ یہاں موجود تیمار داروں نے مذکورہ ٹرسٹ کے اس اقدام کی کافی ستائش کی ہے ۔ ایک دور تھا جب ہمارے اسلاف اور ہمارے بزرگوں نے ہمیشہ غریبوں کو کھانا کھلانے ، بے آسروں اور ننگوں کو کپڑا پہنانے میں پیش پیش رہا کرتے تھے ۔ مگر اب مسلمانوں میں ایسے لوگ خال خال ہی نظر آتے ہیں ۔ ہم اپنے اختتامی سطور میں یہی کچھ تحریر سکتے ہیں ۔ ہمارے شہر حیدرآباد میں کبھی وہ وقت بھی تھا جب اوپر والا ہاتھ ہمارا ہوا کرتا تھا آج وہی ہاتھ دوسروں کے سامنے پھیلا ہواہے ۔ خدا خیر کرے ۔۔